سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے۔دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے۔ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے،اس میں چاقو،چھری،مقدمہ،بحث، مباحثے،کس بل،حق حقوق،چھینا جھپٹی،کرودھ کام ہنکار سب ہوتا ہے
دوسرا رہنا سہنا اہک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے۔اس میں وجدان ،شانتی،امن،پرائسچت،پریم کی وجہ سے ہجرت کا سماں رہتا ہے۔اسی وجدان کی وجہ سےایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں،تم چاہو تو علم کا ڈنڈا پکڑ لو پھر وکیل ضروری ہو گا۔میرے وجدان پر اعتبار کرو تو جنگل چھوڑ دو۔آگے ہر پڑاؤ پر تمہیں امن ہی امن لہراتا ملے گا۔
راجہ گدھ
تعلق بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔
حاصل گھاٹ
میں نے انسان کو شہر بساتے اور حق مانگتے دیکھا ہے۔۔۔ جان لو صاحبو! جب کبھی سڑک بنتی ہے اس کے دائیں بائیں کا حق ہوتا ہے، جو مکان شہروں میں بنتے ہیں باپ کے مرتے ہی وارثوں کا حق بن جاتے ہیں۔ میرے ساتھ چلو اور چل کر دیکھو جب سے انسان نے جنگل چھوڑا ہے اس نے کتنے حق ایجاد کر لیے ہیں۔ رعایا اپنا حق مانگتی ہے، حکومت کو اپنے حقوق پیارے ہیں، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے حق مانگتی ہے، استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد اپنا حق مانگتا ہے۔
اصلی حق کا تصور اب انسان کے پاس نہیں رہا، کچھ مانگنا ہے تو اصلی حق مانگو۔۔۔ جب محبت ملے گی تو پھر سب حق خوشی سے ادا ہونگے، محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔
راجہ گدھ
اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے ۔
یا باری تعالیٰ ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں ؟
زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے ؟
اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔
ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے ۔آقائے دوجہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے۔
جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔
ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ ؟؟
جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں ۔
خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے،جب کہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں
امر بیل
پاکستان لوٹ جانے میں جو بھی وجوہات مانع تھیں، اپنی جگہ…. لیکن امریکہ میں بھی میرا دم گھٹنے لگا۔ وہاں میری اندر کی زندگی ایسی تھی جیسے مکڑی کا جالا ہوا میں تیرتا ہو…. کشتی کی ٹوٹی پتوار بے کراں سمندر پر بے مقصد پھرتی ہو…. میں لمحے سے لمحے تک…. دن کو دن سے، سالوں کو نئے سال سے جوڑتا رہا۔ امریکہ صرف ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا سفر تھا۔ ضروریات بڑھ رہی تھیں، ان کے لئے جدوجہد اور بھی روز افزوں تھی۔دن، ہفتے، مہینے، سال معیار زندگی کو بہتر بنانے کی نذر ہوتے رہے۔
پاکستان میں میرا جسم ناآسودہ تھا، امریکہ میں روح تشنہ رہنے لگی۔ ہولے ہولے اس تشنہ روح نے سوال پوچھنا شروع کر دیئے…. کیا میں دنیا میں صرف زیادہ کمفرٹس فراہم کرنے کے لئے لایاگیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے؟ کس کے لئے کرنا ہے اور پھر کیوں کرنا ہے؟
کعبہ میرے پیچھے
آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے، رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے۔ محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ عہد پیری مریدی کا نہیں کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو۔ یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے، یہ محبت کی عظیم مثال ہے۔
محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا “شرک” ہے، کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی، محبوب سے بھی اور اپنے آپ سے بھی۔ محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔
حاصل گھاٹ
کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے‘ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے‘ جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔
راجہ گدھ
حاجی اورنگ زیب خان ٹمبر مرچنٹ ڈوبی ہوئی رقموں کی ادائیگی اور وصولی کی سلسلے میں اکثر پشاور سے کراچی آتے رہتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ میں جب کراچی آتا ہوں حیران و پریشان رہتا ہوں، میرا دل بہت اداس ہوتا ہے۔ جس سے ملوں جس سے بولوں کراچی سے کچھ نہ کچھ گلہ ضرور رکھتا ہے۔ ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو اپنے شہر پر فخر کرتا ہو۔

بجلی آنی جانی شے ہے – بجلی موجود ہو تو خوامخواہ ٹی وی دیکھنے کو دل کرتا ہے ، ٹی وی کھولتے ہی اطلاع ملتی ہے کے ککھ نہی ریا – کہیں سے کوئی اناؤنسر چّلا رہا ہے کے چینی غائب ہو گیی، گھی مہنگا ہوگیا ، انڈیا نے پانی بند کر دیا ، اگلے ہی چینل پر کوئی مولانا صاحب قرب قیامت کی نشانیاں موجودہ نظام میں تلاش کر کے اپنی فصاحت و بلاغت کے موتی لٹا رہے ہیں – ایک جگہ سلوسٹر اسٹالون مشین گن لئے روسیوں کا خاتمہ کر رہا ہے اور دوسری جگہ عامر خان دلدلی زمین پر تارے ڈھونڈ رہا ہے – ایک ٹی وی اور سو سو چنیل ، دماغ کے کینوس پر عجیب سا گڈ مڈ نقشہ بن جاتا ہے جیسے کسی نے دھلے ہوے صحن میں کیچڑ بھرے ٹائروں والی سائکل چلا دی ہو – ریمورٹ ہاتھ میں پکڑ کر اگلا چنیل دیکھنے کی کوشش ہی کرتے ہیں کہ بجلی چلی جاتی ہے اور کائنات وہیں دم سادھے کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے
strate the connection between Islam and the environment, let’s talk about waste, water, watts, and food. These four topics are especially important because civilizations have been built and destroyed on their ability or inability to manage them. Think about it – a society that cannot remove its trash, preserve its water, create energy, and distribute food – will not flourish. As Muslim-Americans who live in this country, we create waste, drink water, use energy, and eat food. We need to start thinking responsibly about our actions and how they impact the environment. Knowing what our Deen says about being Green is the perfect place to start.








Recent Comments