PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Download Zara Phir Se Kehna By Amjad Islam Amjad

کتاب : ذرا پھر سے کہنا
شاعر : امجد اسلام امجد

امجد اسلام امجد نے آبائي شہر سيالکوٹ لاہور ميں تعليم حاصل کي اور ايم اے او کالج لاہور سے ايک ليکچرار کي حيثيت سے عملي زندگي کا آغاز کيا، 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹيلي ويثرن پر ڈائريکٹر کي حيثيت سے کام کرتے رہے، اس کے بعد دوبارہ اسي کالج ميں آگئے، 1997 ميں ڈائريکڑ جنرل اردو سائنس بورڈ مقرر ہوئے، چلڈرن لائبريري کمپليکس کے پروجيکٹ ڈائريکٹررہے، چاليں کتابوں کے مصنف ہيں، بيشمار سفرنامہ، تنقيد، تراجم اور مضامين لکھے، نيشنيل ايوارڈ يافتہ ہيں، گو ان کي شہرت انکے ڈراموں کي بدولت ہے، ليکن ان کي حقيقي پہچان انکي وہ نظميں ہيں جن ميں زندگي کے تمام تر پہلو اپني تمام تر دلکشي اور مٹھاس لئے ہوئے ہيں۔



وطن کے لئے نظم

وطن کے لئے نظم لکھنے سے پہلے
قلم، حرف کي بارگاہ ميں
بہت شرمسار و زبوں ہے
قلم سر نگوں ہے
قلم کيسے لکھے

وطن! تو مري ماں کا آنچل جو ہوتا
تو ميں تجھ کو شعلوں ميں گِھرتے ہوئے ديکھ کر۔۔ کانپ اٹھتي
زباں پر مري۔۔۔ الاماں۔۔۔ اور آنکھوں ميں اشکوں کا طوفان ہوتا

وطن! تو مرا شير دل بھائي ہوتا۔۔۔ تو
تيرے لہو کے فقط ايک قطرے کے بدلے
ميں اپنے بدن کا يہ سارا لہو نذر کرتي
شب و روز۔۔ تيري جواني
تري زندگي کي دعاؤں ميں مصروف رہتي

وطن! تو مرا خواب جيسا وہ محبوب ہوتا
کہ جس کي فقط ديد ہي۔۔ ميرے جيون کي برنائي ہے
ميں ترے ہجر ميں۔۔ رات بھر جاگتي۔۔ عمر بھر جاگتي
عمر بھر گيت لکھتي

وطن! تو جو معصوم لختِ جگر ميرا ہوتا
تو۔۔ تيري اداؤں سے ميں ٹوٹ کر پيار کرتي
بلائيں تري۔۔ ساري اپنے ليے مانگ لاتي
ترے پاؤں کو لگنے والي سبھي ٹھوکروں ميں
ميں اپنا محبت بھرا دل بچھاتي

وطن! تواگر ميرے بابا سے ميراث ميں ملنے والي
زميں کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا بھي ہوتا
کہ جس کے ليے ميرا بھائي
مرے بھائي کے خوں کا پياسا ہوا ہے
تو ميں اپني جاں کا کوئي حصہ اور جرعہء خوں تجھے پيش کرتي،

ميں اپنے بدن پر کوئي وار۔۔ دل پر کوئي زخم سہتي
تو پھر شعر کہتي

قلم کيسے لکھے
يہ آدھي صدي سے زيادہ پہ پھيلے بہانے
يہ خود غرضيوں کے فسانے؟

قلم۔۔۔ مہرباں شاعروں کا
قلم۔۔۔ غمگسار عاشقوں کا
قلم۔۔۔ آسماني صحيفوں کو مرقوم کرنے کا داعي
قلم۔۔۔ نوعِ انساں کي تاريخ*کا عيني شاہد
قلم۔۔۔ يہ مري عمر بھر کي کمائي

ازل سے ابد تک۔۔ جو راز آشنا ہے
بہت سرخرو اور شعلہ نوا ہے
قلم لکھ رہا ہے

کہ ميرے وطن
تو ہي پُرکھوں سے ميراث ميں ملنے والي زميں ہے
تو ہي سر پہ پھيلا ہوا آسماں ہے
تو ہي ماں کي گود اور آنچل
تو ميرا محافظ، مرا شير دل بھائي
تو ميرا محبوب، وہ خواب زادہ
تو ہي ميرا معصوم لختِ جگر ہے
تو ہي ميري پہچان اور شان ہے
دل کي ٹھنڈک ہے
نورِ نظر ہے


ثمینہ راجہ

Friday Funnies: Public Transport

ڈرایئور

یہ کسی بھی گاڑی کا وہ ڈھیٹ مسافر ہوتا ہے جو صبح سے شام تک نہایت ڈھٹایی سے ایک ہی سیٹ پر قبضہ جماے بیٹھا رہتا ہے- اسکے فرائض میں نہ صرف لوگوں کی نازک کمروں کو جھٹکے لگوانا شامل ہوتا ہے بلکہ وقفے وقفے سے سامنے لگے چوتھے شیشے سے پیچھے بیٹھے مرد و زن پر نگاہ ڈال کر اطمینان قلب حاصل کرنا بھی اسکا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے – لوکل بسوں میں اکثر اوقات پان ، تمباکو ، یا نسوار کی لذت سے لطف اندوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے – جب کے لمبے سفر کی بسوں میں نیند میں ڈوبا ہوا پایا جاتا ہے – ڈرائیور ہونے کے ناطے اسے سب سے برا فائدہ یہ ہے کے کسی ڈگری یا اعلا تعلیم کے بغیر بھی اسے کنڈکٹر کلینر کی صورت میں کوئی نہ کوئی ماتحت نصیب ہوجاتا ہے – گاڑی میں سوار ہو جانے کے بعد مسافروں کی جان و مال کے تمام تر جملہ حقوق الله تعالیٰ کے بعد بحق ڈرائیور محفوظ ہو جاتے ہیں- آج کے مہنگے اور مصروف ترین دور میں بھی یہ اس قدر خوش نصیب شخص واقیع ہوا ہے کے کسی دوسرے مسافر کو سیٹ ملے نہ ملے — بس میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہو –کھوے سے کھوا چلتا ہو لیکن اسکو ہر صورت میں سیٹ مل جاتی ہے- اسکی تمام تر جملہ خوبیوں میں سے ایک قابل ذکر خوبی یہ بھی ہےکے موصوف کسی بھی گاڑی کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے چل سکتے ہیں لیکن کوئی بھی گاڑی موصوف کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے نہیں چل سکتی – کسی بھی وقت اسکے دل کے نازک تاروں کو چھیڑ دیا جائے تو اسکی دھڑکنوں سے پنجابی دوہڑھوں ، ماہیوں ،نور جہاں اور عطا الله عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کی ترنم سنایی دینے لگتی ہے – اگر کچھ اور دیر انکے ساتھ بیٹھ کر غم غلط کیا جائے تو نہایت دل سوز بلکہ دل چیر انداز میں نصیبو کے گیت سنانے شرو کر دیتے ہیں – اپنی گاڑی کو ہمہ قسم کے شعروں،اور پھول گجروں سے سجا سنوار کر حسین دوشیزہ کا روپ دینے میں بھی انکی حُسن پرست طبیعت کا عمل دخل ہوتا ہے – غیر ملکی گیتوں سمیت پاک وطن کے متعدد گلوکاروں کو شہرت دلانے میں ان ہنر مند ڈرائیوروں کا سب سے زیادہ کمال ہوتا ہے -

کنڈیکٹر

یہ بات ہے تو بہت افسوس ناک لیکن بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کے کنڈکٹری دور حاضر کا بڑا  ہی بدنصیب پیشہ ہے کیوں کے اس مزدوری میں بندہ صبح سے لے کر شام تک روپے پیسوں میں کھیلتا رہتا ہے اور رات پڑتے ہی ایندھن کی مھنگایی کے بہانے عوام سے اینٹھی گیی تمام رقم کنڈکٹر سے گاڑی کا مالک ہتھیا لیتا ہے- اور کنڈکٹر بیچارہ بے بس و لاچار بن کر اپنا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے – اس بات کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کے کنڈکٹر بھلے ڈرائیور کے ماتحت ہوتا ہے لیکن ایک ادنیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوے بھی اس کے پاس اس قدر اعلیٰ اختیارات ہوتے ہیں کے یہ حضرت جب تک گاڑی کے رہے سہے ڈھانچے پر ہاتھ پاؤں مار کر اپنی رضامندی نہ ظاہر کریں، گاڑی کسی قیمت پر رکتی یا چلتی نہیں – اس خود غرض دور میں بھی الله نے کنڈکٹر کو ایک ہمدرد دل عطا کیا ہے کے یہ خدمات خلق کا پرچم بلند کئے انسانیت کے دُکھ درد کا مداوا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے یعنی کے زیادہ سے زیادہ مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے کی دھن میں خود آئے روز کھڑکی ، پائیدان ، چھت یا دروازے کے ساتھ لٹکتا ہوا پایا جاتا ہے -

زنانہ سواری

تمام اقسام کے مسافروں میں سب سے زیادہ معروف و مقبول سواری ، زنانہ سواری ، ہوتی ہے – سواری اگر خاتون ہو ، کسی گاؤں کی ہو، پند و نصائح میں ملکہ رکھتی ہو مزاج بھی آتشی پایا ہو تو گاڑی کی رفتار اور گاڑی کے ماحول کو معمول پر رکھنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ضرور ادا کرتی ہے – ان سواریوں کو پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے اگر کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو کسی نہ کسی ہمدرد کو اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے بشرطیکہ یہ ہمدرد دل ہی دل میں اپنی ہمدردی کے نتیجے میں کسی جواب کا خواہش مند نہ ہو -

تحریر :: وقار مسعود خان

Monday Motivation: The Droplet

It was there, clinging on to the edge of the leaf and was about to fall, fall into the little puddle of water below… The Droplet.

Yes, the droplet was ready to give up and surrender its existence to the little puddle below but something made it cling on, a little longer; perhaps a desire to stay that fraction of a second more in the company of the green leaf, the same green leaf that held it, nurtured it and was now ready to offer it to the little society of droplets underneath.

What was it? Just a droplet! Where did I come from? No one knows. Perhaps a fog, a dew, an overnight drizzle perhaps from nowhere but it was now here. It existed and existed with a distinct identity, an identity that was now to be submerged into the flow of millions – to be lost.

Reluctantly, the droplet left the shelter of the leaf. All the time it went down, it pointed towards its once safe, soft and sure shelter. And then with a little ‘whimp’ it dropped into the puddle.

Don’t know what strength the droplet had in its heart or what amount of agony or what purpose it set itself to make it so heavy.

As it fell, it created a huge ripple all around it. Yes, it was the sign of revolution. It said that it was here to make changes, to transform the society of droplets into the way it learnt intuitively from the soul of the world, to live with a distinct identity.

But, something else happened. The ripple it sent around gradually died out and with time, silently the pool of droplets engulfed it. And its existence was lost.

But yes, the water in the puddle never remained the same again because the droplet fell, the ripple was created, the mud was churned, and the color of the society of droplets changed forever.

We may be a droplet in the ocean of people but it requires only one, to churn what lies within us, to change the course of destiny.

- By Arindam Dey

Mohabbat Kay Hazaron Rang


میں شاعر ہوں تو اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں
اس حسین اسرار کے بارے میں
بتایے تو بھلا کیا ہے ؟
محبت آخر شے کیا ہے ؟
وصی میں ہنس کے کہتا ہوں
کسی پیاسے کو اپنے حصے کا پانی پلانا بھی
محبّت ہے
بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی
محبّت ہے
کسی کے واسطے ننھی سی قربانی، محبّت ہے
کہیں ہم راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی
کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا
محبّت ہے
ہو دل میں درد، ویرانی مگر پھر بھی
کسی کے واستے جبراً ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا
زبردستی ہی مسکانا،
محبّت ہے
کہیں بارش میں سہمے، بھیگتے بلّی کے بچے کو
ذرا سی دیرکو گھر لے کے آنا بھی
محبّت ہے
کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو
تو اس چڑیا کو
پنکھے بند کر کے راستہ باہر کا دکھلانا
محبّت ہے
کسی کے زخم سہلانا
کسی روتے ہوے کے دل کو بہلانا، محبّت ہے
کے میٹھا بول، میٹھی بات، میٹھے لفظ، سب کیا ہے ؟
محبّت ہے
محبّت ایک ہی بس ایک ہی انسان کی خاطر
مگن رہنا
ہمہ وقت اسکی باتوں، خشبوؤں میں
ڈولنا کب ہے ؟
محبّت صرف اسکی زلف کے بل کھولنا کب ہے ؟
محبّت کے ہزاروں رنگ
لاکھوں استعارے ہیں
کسی بھی رنگ میں ہو یہ
مجھے اپنا بناتی ہے
یہ میرے دل کو بھاتی ہے

وصی شاہ

Image credit: Lake in colours Painting by Anil Nene

Download Novel Mairi Zaat Zarra-e-Benishan by Umera Ahmed

کتاب — میری ذات ذرّہ بے نشاں

تحریر — عمیرہ احمد

عمیرہ احمد نے یہ کہانی ایک نہایت حسّاس موضوع پر لکھی ہے۔ ایک بار پھر عمیرہ احمد اپنے ہی معاشرے کی کوتاہیوں کو سامنے لائی ہیں جہاں لوگ ‘نیک انسان’ کا پیرامیٹر صرف ظاہری اوصاف کے مد نظر بناتے ہیں۔ لیکن اللہ باطن کا حال خوب جاننے والا ہے۔ اس ناول میں ایسے ہی لوگوں کا کردار دکھایا گیا ہے جو بظاہر دیندار ہیں مگر تہمت، الزام تراشی اور بد گمانی سے باز نہیں آتے یہاں تک کہ اللہ ان کی پکڑ نہیں کرلیتا اور ان کے باطن کو عیّاں نہیں کردیتا۔ لیکن اس وقت تک پلٹنے کا راستہ بند ہوچکا ہوتا ہے اور سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

Monday Motivation: How Pakistan Redefines Strength

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

So do not become weak (against your enemy), nor be sad, and you will be superior (in victory) if you are indeed (true) believers.
[Surah Al-'Imran, Ayat 139]

Here I am posting a wonderful and motivating video passed on by a friend. Undoubtedly the strength of a nation is found in devotion to one’s land and conviction to stand steadfastly through all times. Muhammed Ali jinnah once said, “You have performed wonders in the past. You are still capable of repeating the history. You are not lacking in great qualities and virtues in comparison with the other Nations. Only you have to be fully concious of the fact and to act with Courage, Faith and Unity.