Jul
30
2011

بانو قدسیہ کے قلم سے

سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے۔دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے۔ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے،اس میں چاقو،چھری،مقدمہ،بحث، مباحثے،کس بل،حق حقوق،چھینا جھپٹی،کرودھ کام ہنکار سب ہوتا ہے
دوسرا رہنا سہنا اہک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے۔اس میں وجدان ،شانتی،امن،پرائسچت،پریم کی وجہ سے ہجرت کا سماں رہتا ہے۔اسی وجدان کی وجہ سےایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں،تم چاہو تو علم کا ڈنڈا پکڑ لو پھر وکیل ضروری ہو گا۔میرے وجدان پر اعتبار کرو تو جنگل چھوڑ دو۔آگے ہر پڑاؤ پر تمہیں امن ہی امن لہراتا ملے گا۔

راجہ گدھ

تعلق بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔

حاصل گھاٹ

میں نے انسان کو شہر بساتے اور حق مانگتے دیکھا ہے۔۔۔ جان لو صاحبو! جب کبھی سڑک بنتی ہے اس کے دائیں بائیں کا حق ہوتا ہے، جو مکان شہروں میں بنتے ہیں باپ کے مرتے ہی وارثوں کا حق بن جاتے ہیں۔ میرے ساتھ چلو اور چل کر دیکھو جب سے انسان نے جنگل چھوڑا ہے اس نے کتنے حق ایجاد کر لیے ہیں۔ رعایا اپنا حق مانگتی ہے، حکومت کو اپنے حقوق پیارے ہیں، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے حق مانگتی ہے، استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد اپنا حق مانگتا ہے۔
اصلی حق کا تصور اب انسان کے پاس نہیں رہا، کچھ مانگنا ہے تو اصلی حق مانگو۔۔۔ جب محبت ملے گی تو پھر سب حق خوشی سے ادا ہونگے، محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔

راجہ گدھ

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے ۔
یا باری تعالیٰ ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں ؟
زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے ؟
اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔
ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے ۔آقائے دوجہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے۔
جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔
ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ ؟؟
جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں ۔
خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے،جب کہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں
امر بیل

پاکستان لوٹ جانے میں جو بھی وجوہات مانع تھیں، اپنی جگہ…. لیکن امریکہ میں بھی میرا دم گھٹنے لگا۔ وہاں میری اندر کی زندگی ایسی تھی جیسے مکڑی کا جالا ہوا میں تیرتا ہو…. کشتی کی ٹوٹی پتوار بے کراں سمندر پر بے مقصد پھرتی ہو…. میں لمحے سے لمحے تک…. دن کو دن سے، سالوں کو نئے سال سے جوڑتا رہا۔ امریکہ صرف ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا سفر تھا۔ ضروریات بڑھ رہی تھیں، ان کے لئے جدوجہد اور بھی روز افزوں تھی۔دن، ہفتے، مہینے، سال معیار زندگی کو بہتر بنانے کی نذر ہوتے رہے۔

پاکستان میں میرا جسم ناآسودہ تھا، امریکہ میں روح تشنہ رہنے لگی۔ ہولے ہولے اس تشنہ روح نے سوال پوچھنا شروع کر دیئے…. کیا میں دنیا میں صرف زیادہ کمفرٹس فراہم کرنے کے لئے لایاگیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے؟ کس کے لئے کرنا ہے اور پھر کیوں کرنا ہے؟

کعبہ میرے پیچھے

آزادی اکیلے آدمی کا سفر ہے، رسی تڑوا کر سرپٹ بھاگنے کا عمل ہے۔ محبت اپنی مرضی سے کھلے پنجرے میں طوطے کی طرح بیٹھے رہنے کی صلاحیت ہے۔ محبت اس غلامی کا طوق ہے جو انسان خود اپنے اختیار سے گلے میں ڈالتا ہے۔ یہ عہد پیری مریدی کا نہیں کہ مرشد منوائے اور سالک ماننے کے مقام پر ہو۔ یہ زمانہ شادی کا بھی نہیں کہ شادی میں بھی قدم قدم پر اپنی مرضی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراھیم جس طرح اپنے بیٹے کو قربان کرنے پر راضی بر رضا رہے، یہ محبت کی عظیم مثال ہے۔
محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا “شرک” ہے، کیوں کہ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی، محبوب سے بھی اور اپنے آپ سے بھی۔ محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے۔
حاصل گھاٹ

کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سیارہ بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور مائع گیس میں بدل جاتا ہے‘ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے‘ جو موسم‘ جو رُت‘ جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔

راجہ گدھ

Jun
06
2011

شہر سائیباں

حاجی اورنگ زیب خان ٹمبر مرچنٹ ڈوبی ہوئی رقموں کی ادائیگی اور وصولی کی سلسلے میں اکثر پشاور سے کراچی آتے رہتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ میں جب کراچی آتا ہوں حیران و پریشان رہتا ہوں، میرا دل بہت اداس ہوتا ہے۔ جس سے ملوں جس سے بولوں کراچی سے کچھ نہ کچھ گلہ ضرور رکھتا ہے۔ ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو اپنے شہر پر فخر کرتا ہو۔

خان صاحب کہتے ہیں کہ اس کے دو سبب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ یہاں فخر کے لائق کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ دوسرا سبب بتانے کیلے انہوں اپنی انگشت شہادت ابھی سوئے پلک بلند کی ہی تھی کہ مرزا عبدالودود بیگ بیچ میں کود پڑے اور کہنے لگے صاحب، دوسرا سبب یہ کہ مہاجر،پنجابی، سندھی، بلوچ، پٹھان، سب اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کیلے یہاں آ آکر آباد ہوئے ، کڑی دھوپ پڑ رہی تھی ، سب کے سروں پر کراچی نے مادر مہرابان کی طرح اپنی پھٹی پرانی چادر کا سائبان تھام لیا۔

ان پر بھی جو بسر کرنے کیلےفقط ٹھکانہ مانگتے تھےمگر پھر پھسرتے چلے گئے۔لیکن سب شاکی، سب آزردہ خاطر، سب برہم۔ مہاجر ہی کو لیجئے؛ دلی، لکھنو، بمبئی ، بارہ منکی،جونا گڑھ، حد یہ کہ اجاڑ جنجنوں ( میرا پرانا وطن ) کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں۔ اسے یہ احساس نہیں کہ جنہیں یاد کر کے وہ خود پر دائمی رقت طاری رکھتا ہے، وہ چھوڑا ہوا شہر نہیں بلکہ اسکی روٹھی جوانی جو لوٹ کر نہیں آسکتی، کسی بھی شہر میں۔۔
پنجابی جنہیں سب سے پہلے سرسید احمد خان نے زندہ دلان پنجاب لا لقب دیا تھا جنت میں پہنچ کر بھی لاہور لاہوراے ہی پکارے گا۔ انہیں کراچی ذرا نہیں بھاتا۔ وہ سندھ کے چتی دار کیلے، چیکو ، اور پپیتے میں ملتان کے انور رٹول اور منٹ گمری کے مالٹے کا مزہ نہ پا کر سچ مچ اداس ہو جاتے ہیں۔ 

 

فرنٹیئرکا گل زمان خان چوکیدار ، شیر شاہ کالونی کے جونگھڑہ ( جھونپڑی) میں اپنے وطن کے کوہ و دشت اور دریا مانگتا ہے۔ کوئی نہیں جو اٹھا لائے گھر میں صحرا کو۔۔وہ صبح دلی کی نہاری کھاتا ہے، سہ پہر کو سیٹھ کی کوٹھی کے ایک اوجھل کونے میں اپنی مکئی کے بے موسم پودے کو بڑے لاڈ سے پانی ڈالتا ہے۔ اور یہ ٹپہ گاتا ہے۔

پہ پردی وطن ہر یو غمگین ئی
ما پہ پردی وطن کرلی دی گلونہ

ترجمہ ( یوں تو پردیس میں ہر شخص غمگین رہتا ہیں،مگر مجھے دیکھو میں نے پرائی زمین میں اپنے وطن کے پھول کھلا دئے ہیں)

وہ دن بھرپشتو لہجے میں بمبئی اردو بولنے کے بعد شام کو ریڈیو پر پشتو گانوں سے دل پشوری کر لیتا ہے۔اور رات کو پشاور ریلوے سٹیشن کو آنکھوں میں بھر کے سڑک کے کنارے جھگی میں سو جاتا ہے۔ سڑک پر رات بھر پٹاخے چھوڑتی موٹر سائیکل، رکشے اور دھاڑتے ٹرک گزرتے رہتے ہیں، پر اسے خواب میں ڈھول سر، رباب ، اور گھڑے پر ٹپے سنائی دیتے ہیں۔

ادھر کوئٹہ اور زیارت سے آیا ہوا بلوچ کراچی کا نیلا سمندر دیکھتا ہے اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور ان پر چرتے دنبوں کو یاد کر کر کے آبدیدہ ہو جاتا ہے۔ جنکے وہ بڑے خستہ سجی کباب بنا سکتا تھا۔
اب رہا پرانا سندھی تو وہ غریب اس زمانے کو یاد کر کے آہیں بھرتا ہے جب یہ چاروں حضرات کراچی تشریف نہیں لائے تھے۔
مصنف: مشتاق احمد یوسفی

May
21
2011

A Conversation Between Parents and Children

Parents: Why can’t you children ever listen to us?

Children: Coz of the huge generation gap between us.

Parents: Generation gap? What is it? If we provide you everything, as per your desires, the gap would be erased?

Children: Maybe…

Parents: The day you came into our lives we became parents. We kept learning about “parenting” on a trial and error basis. As parents we also grow with you so we can make many mistakes and we expect you to understand that. Whatever you needed, we were able to provide you but your desires were larger than our paychecks, but still we tried to fulfill every desire of yours to our best of ability. So the generation gap is just an illusion and not reality…

Children: You guys never let us follow our dreams, our passion and you don’t trust us that we can make decisions on our own about our life…

Parents: Your dreams and your passions keeps changing as you grow up, so we ask you to wait to realize what is that you really want to do with your lives and for that, you need to be educated well enough. That’s the basic need; we do provide it. We do trust you unconditionally; you children give meaning to our lives.

The reason we create barriers for you is we don’t ever wish to see you in pain or get hurt because strange are the ways of life. Sometimes it’s too easy to handle but sometimes it’s really a tough nut to crack. We prepare you so that you are able to handle every situation with ease, ethics and confidence.

The day you make your decisions independently, we expect you to take the responsibilities of its result. Be assured you will have our unconditionally support always. No matter what the outcome is.

Children: You guys always compare us with our friends.

Parents: Yes, that’s our mistake as we keep forgetting that each child is special in his/her own way. We sometimes try to live our own dreams through you, thereby your own dreams are not fulfilled. But that’s how things were for us when we were kids, our parents did the same with us. For sure we did get hurt but as we grew up and became parents, we understood why they did that to us. Maybe when you become parents you may also realize the same, but still, we seek forgiveness for that.

Children: Whom should we idolize when you guys behave the way you are not suppose to behave?

Parents: We are humans with flaws. Sometimes, along the line, we may behave in a weird manner. Many a times we may fight amongst ourselves because there are so many issues we face as adults that we can’t share with you. That doesn’t mean that you fight with your siblings for small petty things in life.

When we were kids, we use to idolize our parents. But as we grew up, we couldn’t because of their behavior and innumerable number of barriers they imposed on us. As we stepped in their shoes, we understood why they behaved in that manner and why they had put so many restrictions on us.

They expected us to take care of them with love and affection in their old age, not because they wanted any compensation for what they did for us but since their world had shrunk from a huge social circle to just our home, we, as their children, meant the world to them. But as our desires grew, they had to work hard to fulfill them; we realized this only now that we are in their shoes.

We do idolize our own parents for bringing us in this world, making us what we are today. But one thing that never can change is our love for you. We may not be able to show you many a times but we do love you from the depths of our soul. We always try to do all that we can to make your life happy and successful.

 

May
08
2011

ماں کے نام

 

ماں کے نام

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں


اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن
چاہتوں کا پیرہن بچوں کو پہناتی ہے ماں


روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہےہمارے اور چلاتی ہے ماں


جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا
بچہ تو چھاتی پہ ہےگیلے میں سوجاتی ہے ماں


اپنے پہلو میں لٹاکر اور طوطےکی طرح
اللہ اللہ ہم کو رٹواتی ہے ماں


گھر سے جب بھی دور ہوجاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں


دے کے بچوں کو ضمانت میں رضائے پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں


کانپتی آواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع
سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں


لوٹ کے جب بھی سفر سے گھر آتے ہیں ہم
ڈال کےبانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں


وقتِ آخر ہے اگر پر دیس میں نورِ نظر
اپنی دونوں پُتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں


پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی اُن بچوں سے پوچھے جن کی مرجاتی ہے ماں


سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو
زندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں

May
01
2011

بِل سے بِلبلانے تک

بجلی آنی جانی شے ہے – بجلی موجود ہو تو خوامخواہ ٹی وی دیکھنے کو دل کرتا ہے ، ٹی وی کھولتے ہی اطلاع ملتی ہے کے ککھ نہی ریا – کہیں سے کوئی اناؤنسر چّلا رہا ہے کے چینی غائب ہو گیی، گھی مہنگا ہوگیا ، انڈیا نے پانی بند کر دیا ، اگلے ہی چینل پر کوئی مولانا صاحب قرب قیامت کی نشانیاں موجودہ نظام میں تلاش کر کے اپنی فصاحت و بلاغت کے موتی لٹا رہے ہیں – ایک جگہ سلوسٹر اسٹالون مشین گن لئے روسیوں کا خاتمہ کر رہا ہے اور دوسری جگہ عامر خان دلدلی زمین پر تارے ڈھونڈ رہا ہے – ایک ٹی وی اور سو سو چنیل ، دماغ کے کینوس پر عجیب سا گڈ مڈ نقشہ بن جاتا ہے جیسے کسی نے دھلے ہوے صحن میں کیچڑ بھرے ٹائروں والی سائکل چلا دی ہو – ریمورٹ ہاتھ میں پکڑ کر اگلا چنیل دیکھنے کی کوشش ہی کرتے ہیں کہ بجلی چلی جاتی ہے اور کائنات وہیں دم سادھے کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے

بجلی نہ ہونے کے کیی فائدے ہیں سب سے بڑا فایدہ تو یہ ہے کے بجلی نہیں ہوتی تو اس لئے کرنٹ لگنے کہ اندیشہ بلکل نہیں ہوتا لہٰذا آپ بلا خوف و خطر کسی بھی ساکٹ میں انگلی گھسا کر بیوی کو خود کشی کی دھمکی دے سکتے ہیں – مگر یاد رہے کہ محکمہ بجلی شیڈول سے پیشتر بھی بجلی آپکی طرف روانہ کر سکتا ہے، مکمّل احتیاط ضروری ہے ورنہ کوئی دھمکی آخری بھی ثابت ہو سکتی ہے – آپ واشنگ  مشین چلائے بغیر کپڑے دھو سکتے ہیں ، پنکھے میں ہاتھ دے سکتے ہیں ، تالیوں سے مچھر پیٹ سکتے ہیں ، حکومت کو کوس سکتے ہیں اور پچھلی حکومتوں کو یاد کر کے رو سکتے ہیں

ہم کبھی یہ بات نہیں سمجھ پائے کہ عوام ہر وقت بجلی بجلی کی رٹ کیوں لگاے رکھتے ہیں ، جب تان سین نے نئے نئے راگ ایجاد کیے تھے، شاہ جہاں نے تاج محل بنوایا تھا ، اراستو نے نادر نظریات تخلیق کیے تھے ، غالب نے شہرہ آفاق غزلیں لکھی تھیں یا گلیلیو نے دور بین ایجاد کی تھی ، تب تو بجلی نے آنکھ بھی نہ کھولی تھی – ویسے بھی بجلی یورپ کی ایجاد ہے اور ہمیں انکی ایجاد کردہ چیزوں سے پرہیز ہی کرنا چاہیے کے یہ ہمارے اخلاق و ایمان کے لئے مضر ثابت ہو سکتی ہے

تحریر – ذاہد شجاع بٹ

Apr
23
2011

In Islam, Every Day is Earth Day

By Fatima Ashraf

Earth Day was established in 1970 to raise awareness about the environment.  Islam however, did more than that; it provided clear directives for action, as early as the seventh century.  The Quran is filled with ayats and the Sunnah is filled with actions, on how to be stewards of the Earth.

The Prophet Muhammad (peace be upon him) said, “the Earth is a Mosque.” You can pray anywhere. The entire planet is meant to be a place for worship of its Creator. You can kneel down in awe and gratitude of Allah on grass, on sand, on a mountain, in a cornfield.  Therefore, the planet and its people deserve to be protected.

To demonstrate the connection between Islam and the environment, let’s talk about waste, water, watts, and food.  These four topics are especially important because civilizations have been built and destroyed on their ability or inability to manage them.  Think about it – a society that cannot remove its trash, preserve its water, create energy, and distribute food – will not flourish. As Muslim-Americans who live in this country, we create waste, drink water, use energy, and eat food.  We need to start thinking responsibly about our actions and how they impact the environment.  Knowing what our Deen says about being Green is the perfect place to start.

America leads the world in waste production.  We are less than 5% of the world’s population and create over 25% of the entire world’s waste.

In the Quran, Allah says, “Corruption has appeared on the land and in the sea because of what the hands of humans have wrought. This is in order that We give them a taste of the consequences of their misdeeds that perhaps they will turn to the path of right guidance.” (30:41) Scholars have cited “corruption” in this ayat to be synonymous with “pollution” or “waste”.  “The path of right guidance,” likely means the path of justice and righteousness towards the planet.

We have become a society that takes water for granted.  The average American uses 150 gallons of water PER DAY.  Those in developing countries barely use 5 gallons per day.  Still 1.1 billion people on the planet do not have access to safe and clean drinking water.

The Prophet Muhammad (peace be upon him) urged moderation and thriftiness in the use of water. He warned against wasting water when doing wudu, even if one lives near a river.  Water is from God and should therefore be freely available to all. There is a stipulation in the Sha’riah that prohibits the sale of water.  If one is selling water, for example, the bottled water vendors at Hajj, they cannot charge for the fluid.  They can only charge for the cost of the packaging.

The United States consumes 5 times more watts of energy than China and renewable energy only accounts for 7% of our energy use.

Non-renewable sources are extracted from the ground.  They are taken from the Earth.  Renewable sources are gifts that come from above.  Allah reminds us repeatedly in the Quran of the power of the sun and wind.  “Among His Signs is this, that He sends the winds, as heralds of glad tidings, giving you a taste of His Mercy – that the ships may sail by his command and that you may seek of His Bounty…”(30:46) Allah reminds us that wind is a useful blessing!

As the worlds super power and richest country on the planet, still millions of Americans do not have access to healthy food.  In New York City alone, 3 million people live in “food deserts,” neighborhoods without grocery stores or access to fresh fruits and vegetables.

Allah allows us to eat heartily, but warns us against excessiveness.  “O Children of Adam! Wear your beautiful apparel at every time and place of prayer: eat and drink; But waste not by excess, For Allah loveth not the wasters.” (7:31) it’s amazing how much food is wasted each day while millions around the globe are starving.

There is also a Sunnah of Prophet Muhammed (peace be upon him) that while eating, take the food out from the side and not the middle. Eat from the food, which is closest to you.  While this Sunnah is about serving oneself food, I thought, could it also mean to buy local?

April 22, 2010 is the 40th anniversary of Earth Day.  As Muslims, how will we protect the planet, not just on this one day, but every day?  Ibrahim Abdul-Matin, author of the new book,”Green Deen: What Islam Teaches About Protecting the Planet,” is preparing to launch a nationwide movement for Muslims called “Green Ramadan.” This movement is about three things: 1) getting Muslims and mosques across the country to adopt Green principles for the holy month; 2) showing the power of the Muslim community and how great our contribution to the environmental movement can be; 3) inspiring Muslims to look to their Deen for guidance on how to be stewards of the Earth.

It’s time for Muslims to build a movement for everyone, every day, not just on Earth Day.

Page 2 of 4612345...102030...Last »