Jan
03
2011

There is no force on earth which can undo Pakistan!

An inspirational message from our dear Quaid e Azam Mohammad Ali Jinnah
“مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا”


Jan
02
2011

ماں کی یاد میں

یہ نظم امجد اسلام امجد نے اپنی والدہ کے انتقال پر لکھی جو انکی ماں کے انتقال سے لے کر ١٠ دنوں میں مکمل ہوئی

میں جدھر گیا میں جہاں رہا
میرے ساتھ تھا
وہی ایک سایہ مہرباں
وہ جو ایک پارہ ابر تھا سر آسماں
پس ہر گماں
وہ جو ایک حرف یقین تھا
میرے ہر سفر کا امین تھا
وہ جو ایک باغ ارم نما ، سبھی موسموں میں ہرا رہا
وہ اجڑ گیا
وہ جو اک دُعا کا چراغ سا ، میرے راستوں میں جلا رہا
وہ بکھر گیا
میرے غم کو جڑ سے اُکھاڑھتا
وہ جو ایک لمسِ عزیز تھا
کسی کپکپاتے سے ہاتھ کا ، وہ نہیں رہا
وہ جو آنکھ رہتی تھی جاگتی ، میرے نام پر
وہ سو گئی
وہ جو اک دعاِ سکون تھی میرے رخت میں ، وہی کھو گئی
اے خدُائےِ واحد و لم یزل
تیرے ایک حرف کے صید ہیں
یہ زماں مکاں
تیرے فیصلوں کے حضور میں
نہ مجال ہے کسی عذر کی نہ کسی کو تابِ سوال ہے
یہ جو زندگی کی متاء ہے
تیری دین ہے تیرا مال ہے
مجھے ہے تو اتنا ملال ہے
کہ جب اُسکی ساعت آخری سرِ راہ تھی
میں وہاں نہ تھا
میرے راستوں سے نکل گئی وہ جو ایک جاہِ پناہ تھی
میں وہاں نہ تھا
سرِ شام غم مجھے ڈھونڈتی میری ماں کی بجھتی نگاہ تھی
میں وہاں نہ تھا
میرے چار سو ہے دُھواں دُھواں
میرے خواب سے میری آنکھ تک
یہ جو سیلِ اشک ہے درمیاں
اُسی سیلِ اشک کے پار ہے
کہیں میری ماں
تیرے رحم کی نہیں حد کوئی
تیرے عفو کی نہیں انتہا
کے تو ماں سے بڑھ کے شفیق ہے
وہ رفیق ہے
کے جو ساتھ ہو تو یہ زندگی کی مسافتیں
یہ ازیتیں یہ رکاوٹیں
فقط اک نگاہ کی مار ہیں
یہ جو خار ہیں
تیرے دست معجزہ ساز ہیں
گل خوش جمال بہار ہیں
میری التجا ہے تو بس یہی
میری زندگی کا جو وقت ہے
کٹے اُس کی اُجلی دعاؤں میں
تیری بخشِشوں کے دِیار میں
میری ماں کی روحِ جمیل کو
سدا رکھنا اپنے جوار میں
سد ا پُر ِفضا وہ لحد رہے تیری لطفِ خاص کی چھاؤں میں

Jan
01
2011

Aisa Kabhi Naheen Hota By Umera Ahmed

عمیرہ احمد کہتی ہیں کہ میری ذاتی رائے میں فرسٹ پرسن میں لکھنا آپ کو جتنی آزادی دیتا ہے وہ کسی اور طرح سے ممکن نہیں۔

کردار کے ساتھ رہنے کی بجائے اس کے اندر بیٹھ کر لکھنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے یہ زیادہ مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے فرسٹ پرسن میں لکھنے میں جتنا مزہ آتا ہے وہ تھرڈ پرسن کے طور پر نہیں۔

یہ عمیرہ کی ایک مختلف اور سب سے پہلی پرمزاح تحریر ہے۔


Dec
30
2010

چکنی مٹی کا پتلا

نوخیز کہتا ہے، بچپن اتنا بھی اچھا نہیں ہوتا جتنا لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کیونکہ بچپن میں ہر بندہ آپ کو اپنا بندہ سمجھ کر حکم دیتا ہے۔ گل نوخیز اختر ایسے بچے تھے، جو اُستاد سے کبھی نہیں بچے تھے، یعنی پڑھائی میں ریکارڈ اتنا خراب تھا، جس دن غلطی سے ہوم وَرک کرکے جاتے استاد پھر بھی یہ کہہ کر ڈنڈے مارتے کہ میں اپنا ریکارڈ خراب نہیں کرسکتا۔ ریکارڈ تو ان کے والد صاحب نے بھی کبھی خراب نہیں ہونے دیا لیکن وہ پرہیزگار اور نیک انسان تھے، جب بھی گل نوخیز کو مارا باوضو ہوکر مارا ۔ گل نوخیز اختر نے کبھی اپنے بچوں کو نہیں مارا ہے۔ کہتا ہے، مارو تو رونے لگتے ہیں۔ ہم نے کہا، بچوں کو سدھارنے کے لیے تھوڑا بہت مارنا چاہئے چاہے وہ رَونے لگیں۔ نوخیز نے کہا، بچے روئیں تو ان کی ماں بھی رونا شروع کردیتی ہے اور پھر دوچار سوٹ اور کہیں پکنک کے وعدے پر ہی جاکر چپ ہوتی ہے۔ گل نوخیز کو بچپن میں گھر والے پپو کہتے تھے ، جب گل نوخیز تھوڑے بڑے ہوئے تو گھر والوں کو سمجھ آگئی کہ غلط کہتے تھے۔

گل نوخیز ایسا نام ہے کہ فوراً الہڑ دوشیزہ اور شرمیلی سمٹی مٹیارن کی طرف ذہن جاتاہے، اگر بندہ جی دار ہو تو خود بھی چلاجاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک پینڈو، گل نوخیز کی تحریریں پڑھ پڑھ کر اس کا دیوانہ ہوگیا اور نکل پڑا سر پر سہرا باندھ کے۔ جب ڈھونڈتے ڈھونڈتے گل نوخیز اختر سے سامنا ہوا تو اُس وقت گل کی شیو وقت نہ ملنے کے باعث قدرے بڑھی ہوئی تھی۔ پینڈو نے جب الہڑ مٹیار کی جگہ ایک ہٹا کٹا گھبرو دیکھا تو سر پر بندھا سہرا اُتار کر کفن باندھ لیا اور گل کو للکارتے ہوئے کہا ”تیرا بیڑہ غرق ہو مولوی! میں نے تو اپنی ماں کو بھی راضی کرلیا تھا

گل صاحب اُصولوں کے بڑے پکے ہیں، جو کہا کردکھا یا ہے۔ بچپن میں کہتے تھے بڑا ہوکر دولہا بنوں گا اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ایک لڑکی کو شادی کے لیے راضی کرلیا۔ انہوں نے اگر ہونے والی بیوی سے کہا کہ میں تمہارے لیے تارے توڑ کر لاسکتا ہوں تو یہ بھی کر دکھایا۔ سامنے سے فرمائش کی گئی، لاﺅ تارے توڑ کر۔ اگلے دن یہ بجلی والوں کی تاریں توڑ کر لے گئے۔ پورے محلے کے چور اُچکے گل نوخیز کو اس دن دعائیں دیتے رہے کہ جس کی بدولت محلے میں تین دن اندھیرا رہا ۔ مَلک کہتا ہے،لگتا ہے اب ہر عاشق گل نوخیز کے نقش قدم پر ہے، جبھی لوڈشیڈنگ کا دور دَورہ ہے۔

گل نوخیز اختر کو تصویریں کھینچنے کا بڑا شوق ہے، خاص طور پر قائد اعظم کی۔ اس لیے جو دوست ان سے ملتے ہیں تو اپنی جیبیں خالی کرکے ملتے ہیں کہیں یہ وہ نوٹ نہ کھینچ لیں جن پر قائد کی تصویر پرنٹ ہوئی ہے۔

اس دنیا میں ایک ہی خوبصورت بچہ ہے جو ہر ماں کے پاس ہے یہی وجہ ہے کہ گل نوخیز اختر بھی اپنی ماں کے خوبصورت بچے ہیں اور خود کو کسی پھول سے کم نہیں سمجھتے۔ رنگوں میں اُڑا ہوا رنگ پسند ہے اسی وجہ سے ان کا رنگ اُڑا ہی رہتا ہے۔ کھیلوں میں شطرنج پسند ہے لیکن دیکھتے کرکٹ ہیں کھیلتے لفظوں سے ہیں۔

تحریر-  شوکت علی مظفر

Dec
29
2010

Ab Mera Intezar Kar By Umera Ahmed

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے۔

اس ذمّے داری کو نبھانے میں عمیرہ احمد کا کردار کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا – جنکی تحریریں نہ صرف اخلاقی بلکہ مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے بہترین ہوتی ہیں۔

عمیرہ کے مطابق اب میرا انتظار کر ایک سچی کہانی ہے۔ یہ واقعہ کچھ سال پہلے ایک اخبار میں شائع ہوا تھا۔


Dec
28
2010

Three Distinctions Often Confused

There are certain things that the soul often confuses and mixes up, and only those with deep insight and wisdom are able to properly distinguish them. Ibn al Qayyim points out some of these fine details and distinctions that should be made.

i) Self-Respect vs. Vanity

“Self-respect is to make your soul rise above the petty and insignificant things that cause people to bend their necks pursuing. So, he prevents himself from this.

This is different from arrogance, which is a characteristic that is born from two things: being impressed with oneself and belittling others. So, arrogance is born from these two things, and the first (i.e. self-respect) is born from two things: honoring oneself and making it noble…

The basis for all of this is to prepare and condition the soul, and to place preference for its Owner over it. So, if one fails in his preparation and conditioning, he has failed in everything.”

ii) Protection of Self vs. Arrogance

“The one who protects himself is like the man who puts on some new clothes, pure and white, and expensive. So, he enters upon the kings and those below them in these clothes. He strives to protect these clothes from any stains or dirt that could affect its whiteness and purity. So, you see him looking noble and constantly escaping from the places where he fears could make his clothes dirty. He does not allow any stain or speck of dirt to come onto his clothes.

This is the likeness of the one who strengthens and builds his heart and religion: you see him avoiding any stains of sin, as they stain the heart and dirty it more than any blot of dirt can dirty a pure, white garment. However, the eyes are covered from seeing these stains. So, you see him running from any potential stain, being cautious around the people, seldom mixing with them out of fear that the same thing would occur to his heart that occurred to his white clothing when he was around the butchers and cooks.

This is different from the one who elevates himself, as even if he is similar to the above in his avoidance of these things, he intends with this to step over the people’s necks and to put them under his feet. So, this is a color, and that is another color.”

iii) Humility vs. Humiliation

“Humility is born from a) knowledge of Allah, His Names, His Attributes, and His Loftiness, as well as loving and elevating Him, and b) knowing himself and his faults well.

So, from these two comes the characteristic of humility, and it is the subduing of the heart to Allah and lowering the wing of submission and mercy to His servants. So, he does not see any virtue that he has over others, and he sees no rights of his over others. Rather, he sees the virtue of others over him, and he sees their rights before his own. This is a characteristic that Allah gives to those He Loves and wishes to make noble and close to Him.

As for humiliation, it is lowliness and exertion of the soul in acquiring what it desires, like the humility of the low ones in fulfilling their desires, the humility of the victim to his oppressor, and the humility of anyone who seeks something from someone else to that person. This is all lowliness and inferiority, and has nothing to do with true humility. Allah Loves humility, and He hates lowliness and humiliation. It is reported in the ‘Sahih’ that the Messenger of Allah said:”It was revealed to me that you should be humble such that none should boast over others, and none should transgress against others.”"

Page 10 of 46« First...89101112...203040...Last »