سب ہیں بکِنے والے ہاتھ کیا تیرے کیا میرے ہاتھ لہو نہ مخبر ہو جائے! دیکھو اپنے اپنے ہاتھ بول ! فنا کے لمحے بول منزل ہے اب کتنے ہاتھ رُکے نہیں اور جھُکے نہیں سچّی باتیں لکھتے ہاتھ ! اہلِ ہنر نے دیکھو تو کِس کِس بھاؤ بیچے ہاتھ کِس سے ہیں انصاف طلب …
Category Archive: Amjad Islam Amjad
Nov
03
2008
Kis Qadar Khuwab Thay – by Amjad Islam Amjad
اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے کِس قدر نَقش تھے جو نقشِ سرِ آب رہے کِس قدر لوگ تھے جو دِل کیِ دہلیز پہ دسَتک کِی طرَح رہتے تھے اور نایاب رہے.. کِس قدر رَنگ تھے جو بند کلیوں کے خم و پیچ میں چکَرَاتے رہے …
Oct
20
2008
Aakhri Baat – By Amjad Islam Amjad
پرُانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرَز رہی ہیں فصیلِ شہرِ وفا کے روزَن چمکتے زرّوں سے بھَر گئے ہیں گئے دِنوں کِی عذیز باتیں.. نِگار صُبحیں.. گلاب راتیں بِساطِ دِل بھی عجیب شَے ہے…ہزار جیِیتیں…ہزار مَاتیں جُدائیوں کِی ھوائیں لمَحوں کِی خشُک مٹّی اُڑا رہی ہیں گئ رُتوں کا مَلال کَب تک چَلو! …
Oct
16
2008
Aik Kamra e Imtihan – by Amjad Islam Amjad
بےنگِاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پَرچے کو بے خیال ہاتھوں سے اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گھُماتے ہیں یا سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتےہیں ہر طرف کَن اَنکھیوں سے بچ بَچا کے تَکتے ہیں دُوسروں کے پَرچوں کو رَہنما سمجھتے ہیں شاید اِس طرح کوئی راستہ ہی مِل جائے بےنِشاں خوابوں کا کچھ پَتا …
Oct
13
2008
Self-made Logon Ka Almiya – by Amjad Islam Amjad
روشنی مِزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے زندگِی کے رستوں میں بِچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں ایک ایک تِنکے سے آشیاں بنانے میں خوشبُوئیں پکڑنے میں، گلستاں سجانے میں عمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں کیسی کیسی خواہش کا قتل کرتے جاتے …










Recent Comments