Category Archive: Amjad Islam Amjad

Dec
07
2008

Haath

سب ہیں بکِنے والے ہاتھ کیا تیرے کیا میرے ہاتھ لہو نہ مخبر ہو جائے! دیکھو اپنے اپنے ہاتھ بول ! فنا کے لمحے بول منزل ہے اب کتنے ہاتھ رُکے نہیں اور جھُکے نہیں سچّی باتیں لکھتے ہاتھ ! اہلِ ہنر نے دیکھو تو کِس کِس بھاؤ بیچے ہاتھ کِس سے ہیں انصاف طلب …

Continue reading »

Nov
03
2008

Kis Qadar Khuwab Thay – by Amjad Islam Amjad

اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے کِس قدر نَقش تھے جو نقشِ سرِ آب رہے کِس قدر لوگ تھے جو دِل کیِ دہلیز پہ دسَتک کِی طرَح رہتے تھے اور نایاب رہے.. کِس قدر رَنگ تھے جو بند کلیوں کے خم و پیچ میں چکَرَاتے رہے …

Continue reading »

Oct
20
2008

Aakhri Baat – By Amjad Islam Amjad

پرُانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرَز رہی ہیں فصیلِ شہرِ وفا کے روزَن چمکتے زرّوں سے بھَر گئے ہیں گئے دِنوں کِی عذیز باتیں.. نِگار صُبحیں.. گلاب راتیں بِساطِ دِل بھی عجیب شَے ہے…ہزار جیِیتیں…ہزار مَاتیں جُدائیوں کِی ھوائیں لمَحوں کِی خشُک مٹّی اُڑا رہی ہیں گئ رُتوں کا مَلال کَب تک چَلو! …

Continue reading »

Oct
16
2008

Aik Kamra e Imtihan – by Amjad Islam Amjad

بےنگِاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پَرچے کو بے خیال ہاتھوں سے اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گھُماتے ہیں یا سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتےہیں ہر طرف کَن اَنکھیوں سے بچ بَچا کے تَکتے ہیں دُوسروں کے پَرچوں کو رَہنما سمجھتے ہیں شاید اِس طرح کوئی راستہ ہی مِل جائے بےنِشاں خوابوں کا کچھ پَتا …

Continue reading »

Oct
13
2008

Self-made Logon Ka Almiya – by Amjad Islam Amjad

روشنی مِزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے زندگِی کے رستوں میں بِچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں ایک ایک تِنکے سے آشیاں بنانے میں خوشبُوئیں پکڑنے میں، گلستاں سجانے میں عمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں کیسی کیسی خواہش کا قتل کرتے جاتے …

Continue reading »

Sep
26
2008

Hum Log – by Amjad Islam Amjad

ham-log-1
Page 4 of 41234