PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Entries for the ‘Amjad Islam Amjad’ Category

Ya Sami Ya Baseer

ہجوم غم سے جس دم آدمی گھبرا سا جاتا ہے
تو ایسے میں
اسے آواز پر قابو نہیں رہتا
وہ اتنے زور سے فریاد کرتا ، چیختا اور بلبلاتا ہے
کہ جیسے وہ زمیں پر اور خدا ہو آسمانوں میں
مگر ایسا بھی ہوتا ہے
کہ اس کی چیخ کی آواز کے رکنے سے پہلے ہی
خدا کچھ اس قدر نزدیک سے [...]

Leave a Comment

Dil e Bekhabar Zara Hausla

کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں جہاں ہر مکین ہو مطمئن!
کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ہے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں!
یہ جو گرد بادِ زمان ہے ، یہ ازل سے ہے ، کوئی اب نہیں
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ !
یہ جو خار ہیں تیرے پاؤں میں ، یہ جو زخم ہیں تیرے ہاتھ [...]

Comments (3)

Download Zara Phir Se Kehna By Amjad Islam Amjad

کتاب : ذرا پھر سے کہنا
شاعر : امجد اسلام امجد

امجد اسلام امجد نے آبائي شہر سيالکوٹ لاہور ميں تعليم حاصل کي اور ايم اے او کالج لاہور سے ايک ليکچرار کي حيثيت سے عملي زندگي کا آغاز کيا، 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹيلي ويثرن پر ڈائريکٹر کي حيثيت سے کام کرتے رہے، اس کے [...]

Leave a Comment

یہ کون لوگ ہیں

یہ کون لوگ ہیں جسموں سے آگ باندھے ہوے
کے موت جنہیں آپ دیکھنے کو آتی ہے
خود اپنے شہر کی سڑکوں پے چل نہیں سکتے
گھروں کے ہوتے جنہیں بے گھری ستاتی ہے

کبھی بہار کے قاصد، کبھی ہیں دہشت گرد
جو چاہے انکو تری زر گری بناتی ہے

ڈرو غضب کے خدا سے کے اسکی ایک نظر
پلک جھپک میں [...]

Comments (2)

اے زمیں

یہ جو اقدار ہیں
یہ ہماری تمہاری جو اقدار ہیں
وقت کے کوڑے دانوں میں پھینکے گئے
کھوٹے سکوں کی مبہم سی جھنکار ہیں
(اور کچھ بھی نہیں)

یہ جو معیار ہیں
یہ ہمارے تمھارے جو معیار ہیں
شب و روز کی اس کسوٹی پہ تُلنے کو لائے گئے
تو کُھلا یہ کہ یہ
بس ہمارے خیالوں اور خواہشوں کا
لگایا ہوا ایک انبار ہیں

(جن [...]

Leave a Comment

اندیشہ

ضروری نہیں ہے
ضروری نہیں ہے جو ساحل کی گیلی خنک ریت پر
ہاتھ میں ہاتھ دے کر
سفر اور تلاطم کے قصے سُنائے
جزیروں ، ہواؤں اور ان دیکھے موسم
اور آنکھوں سے اوجھل کناروں پہ بکھرے
ہوئے منظروں، ذائقوں اور رنگوں کی باتیں کرے
وہ ان وارداتوں سے گزرابھی ہو
گر کہے، آؤ ہم ان پریشاں موجوں کا پیچھا کریں
جو ترے [...]

Leave a Comment

Khuda Aur Khalq e Khuda

یہ خلقِ خُدا جو بکھرے ہوئے
بے نام و نشاں پتوں کی طرح
بے چین ہوا کے رستے میں گھبرائی ہوئی سی پھرتی ہے
آنکھوں میں شکستہ خواب لئے
سینے میں دلِ بے تاب لئے
ہونٹوں میں کراہیں ضبط کئے
ماتھے کے دریدہ صفحے پر
اک مہرِ ندامت ثبت کئے ٹھکرائی ہوئی سی پھرتی ہے
اے اہلِ چشم اے اہلِ جفا!
یہ طبل و [...]

Comments (2)