PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Author Archive

The Echo of Life

A son and his father were walking on the mountains. Suddenly, the son falls, hurts himself and screams, “AAAhhhhhhhhhhh!!!”
To his surprise, he hears the voice repeating, somewhere in the mountain: “AAAhhhhhhhhhhh!!!”
Curious, he yells, “Who are you?”
He receives the answer, “Who are you?”
Angered at the response, he screams, “Coward!”
He receives the answer, “Coward!”
He looks to his [...]

Leave a Comment

Haath

سب ہیں بکِنے والے ہاتھ
کیا تیرے کیا میرے ہاتھ
لہو نہ مخبر ہو جائے!
دیکھو اپنے اپنے ہاتھ
بول ! فنا کے لمحے بول
منزل ہے اب کتنے ہاتھ
رُکے نہیں اور جھُکے نہیں
سچّی باتیں لکھتے ہاتھ !
اہلِ ہنر نے دیکھو تو
کِس کِس بھاؤ بیچے ہاتھ
کِس سے ہیں انصاف طلب
سمِٹی چیخیں، پھیلے ہاتھ
چھِین جھپٹ کا موسم ہے
کون لگے گا کِس [...]

Comments (1)

Aik Mohray Ka Safar - by Javed Akhtar

جب وہ کم عمر ہی تھا
اُس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جینا ہے
بڑی چالاکی سے جینا ہو گا
آنکھ کی آخری حد تک ہے بسِا طِ ہستی
اور وہ ایک معمولی سا مہرہ ہے
اکِ اِک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہو گا
بازی آسان نہیں تھی اُسکی
دوُر تک چاروں طرف پھیلے تھے مہُرے
جلاّد، نہایت سفاّک ، [...]

Comments (3)

Do You Judge Others Incorrectly ?

A Window
A young couple moves into a new neighborhood. The next morning, while they are eating breakfast, the young wife sees her neighbor hang the wash outside.
“That laundry is not very clean,” she said to her husband. “The neighbor doesn’t know how to wash correctly. Perhaps she needs better laundry soap.”
Her husband looked on, but [...]

Comments (4)

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدُا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھکو
سکوتِ لالہ و گلُ سے کلام پیدا کر
اٹُھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے اِحساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
میرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کر
مرِا [...]

Leave a Comment

Kis Qadar Khuwab Thay - by Amjad Islam Amjad

اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے
کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے
کِس قدر نَقش تھے جو نقشِ سرِ آب رہے
کِس قدر لوگ تھے جو
دِل کیِ دہلیز پہ دسَتک کِی طرَح رہتے تھے
اور نایاب رہے..
کِس قدر رَنگ تھے جو
بند کلیوں کے خم و پیچ میں چکَرَاتے رہے
اپنے ہونے کی تب و تاب میں لہِراتے [...]

Comments (1)

Barwan Khilarhi - By Iftikhar Arif

خشُگوار موسم میں
اَن گِنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاِروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارھویں کھلاڑی کو
ہوُٹ کرتا رہتا ہوں

بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شوُر مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
اِنتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جِس [...]

Comments (2)