«

»

Jun
21
2010

Aadab by Dr Mohammad Younis Butt

لیجئے صاحب،تحریک اصلاح معاشرہ نے ملک سے رشوت اور سفارش ختم کرنے کے لیےجن اقدامات کا اعلان کیا ہے ،ان میں مشاعرے کرانا بھی شامل ہے یوں ہمیں یہ تحریک اصلاح مشاعرہ لگنے لگی ہے
مگر ہمارے شاعر دوست آخر مرادآبادی بڑے خوش ہیں اگرچہ اردو شاعری پر ہمارا بہت بڑا احسان ہے اور اس بنا پر ہمیں اردو شاعری میں ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ ہم نے تمام مواقع ملنے کے باوجود شاعری نہیں کی البتہ بیس سال کی عمر میں ہم نے مشاعروں میں آنا جانا شروع کر دیا تھا ہمارے خیال میں اس سے کم عمر لوگوں لوگوں کو مشاعرے میں نہیں جانا چاہیے البتہ بحیثیت شاعر جانا ہو تب کوئی مضائقہ نہیں مشاعرہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں ہر شاعر سمجھتا ہے کہ دوسرا اس کا شعر سن کر محظوظ ہو رہا ہے حالانکہ وہ اپنی باری قریب آنے کی وجہ سے خوش ہو رہا ہوتا ہے ،البتہ کبھی سننے والے ان کے کلام سے اس قدر مُتاثر ہوتے ہیں کہ کلام تک نہیں کرتے ایک بار تو جناب آخر مرادآبادی صاحب نے جیل میں منقعدہ مشاعرہ ایسا لُوٹا کہ وہاں کے لوگ انہیں اپنے پاس رکھنے پر بضد تھے ،ان کی اواز میں سوز کُوٹ کُوٹ کر بھراہوا ہے ،جی ہاں سننے والوں نے کوُٹ کوُٹ کر بھرا ہے ۔

ایک بار قمر سودائی صاحب نے انہیں کہا کہ صاحب لگتا ہے فلاں بندے نے آپ کا کلام نہیں پڑھا؛پوچھا: آپ کو یہ کیسے لگا ؟ کہا:ایسے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا ۔ ویسے مُشاعرے کا سن کر جس شاعر کے چہرے پر رونق نہ آئے ان کا چہرہ نہ دیکھیں نبض دیکھیں ہمارے مشاعروں نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب تو یہاں سے شاعر لندن بھیجے جاتے ہیں ‘جس پر ایک خاتون نے وہی کہا جو جو پہلی بار فضا میں بندر بھیجنے پر ایک صحافی خاتون نے لکھا تھا کہ یہ بندروں سے جان چھُڑانے کا بڑا مہنگا طریقہ ہے ۔

ویسے بندر کو ڈارون نے انسان کا جدامجد قرار دیا ہے جب اس نے یہ تھیوری پیش کی تو مقامی کالج کے کچھ لڑکوں نے آکر کہا کہ ہم تو نہیں مانتے کہ ہمارے باپ داد بندر تھے ،تو ڈارون نے کہا تم نہیں مانتے تو نا مانو میرا لڑکا تو مانتا ہے۔

ویسے آخری مرادآبادی کے پاس بندہ گھڑی بیٹھہ جائے تو اسے ڈارون کی باتوں پر یقین آنے لگتا ہے۔


شاعر سست رفتاری میں بڑے تیز ہوتے ہیں ؛بیوی کے ساتھ جا رہے ہوں سامنے مشاعرہ ہوتا نظر آجائے تو اسے یہ کہہ کر وہیں چھوڑ جائیں گے تم پانچ منٹ ٹھرو میں آدھے گھنٹے میں آیا ۔ہمارے دوست شعیب بن عبدالعزیز کہتے ہیں میں لیچیاں کھاتے اور روایتی شعراء کا کلام پڑھتے ہوئے عینک ضرور لگاتا ہوں کیا پتہ کب اول الذکر سے کب سنڈی اور آخر الذکرسے اچھا شعر نکل آئے ۔


مشاعروں میں کئی لطیفے جمم لیتے ہیں جس کی وجہ آخر مرادآبادی صاحب نے یہی بتائی جو انہوں نے اس سوال کے جواب میں بتائی کہ مشرقی پنجاب میں زیادہ لطیفے کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ جو یہ تھی کہ محکمہ منصوبہ بندی کی حماقتوں کی وجہ سے ، ویسے بھارت میں تو مشاعروں نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہاں تو جس ہال میں شاعرات کا مشاعرہ ہو رہا ہو اس دروازے پر موتیے کے ہار روپے روپے کے نوٹ بیچنے والے آ جاتے ہیں اور داد ملنے پر آداب بھی یوں کہتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہیں،آ-داب

-

About the author

Faiza

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Notify me of followup comments via e-mail. You can also subscribe without commenting.

:bye: 
:good: 
:negative: 
:scratch: 
:wacko: 
:yahoo: 
B-) 
:heart: 
:rose: 
:smiley: 
:whistle: 
:yes: 
:crying: 
:mail: 
:sad2: 
:unsure: 
:wink2: