
ہمارے معاشرے میں کانوں کی مختلف اقسام اور درج ذیل محرکات ہیں
معصوم کان
ایسے کان کے ملک افراد بہت معصوم ہوتے ہیں – جس انسان کی باتیں سنتے ہیں اسکی باتوں میں آجاتے ہیں -ایسے کانوں کے ملک حضرات کو “کانوں کا کچا” کہہ کر چیڑھتے رہتے ہیں کانوں کا کچا ہونے کی وجہ سے یہ اکثر خسارے میں رہتے ہیں
سی آی ڈی ٹائپ کان
ایسے کانوں کے حامل افراد بڑی منصوبہ بندی سےاراکین مخالف پارٹی کے گھر کی دیوار کے قریب کھڑے رہتے ہیں ، کے اندر ہونے والی تمام باتوں کو بغور سنا جا سکے یہ دیوار کے ساتھ اس طرح چپکے ہوتے ہیں جیسے دیوار کا حصّہ ہوں ، انہی کے بارے میں جب وہ لوگ کوئی خاص بات کر رہے ہوں تو کہتے ہیں ” آہستہ بھئ آہستہ ” دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں
شاک پروف کان
ایسے کان بھولے بھالے معصوم عوام کے ہوتے ہیں جو نت نئے سیاسی وعدے سن سن کر خوش رہنے کا راز سیکھ گئے ہیں – اب ان پر کسی قسم کے وعدوں ، دعوؤں کا اثر نہیں ہوتا کیوں کے یہ سپرمین کان بن چکے اور ہر حال مین صابر و شاکر رہنے کا فن سیکھ چکے ہیں
الرٹ کان
یہ فوجی ٹائپ کان ہوتے ہیں مطلب بہت ہی الرٹ اور چست ، یہ سوتے مین بھی بیدار رہتے ہیں – نیند کے دوران کانوں کے پاس ذرا نا مانوس میوزک یعنی مچھر کی راگنی سنایی دے تو چوکنے ہو جاتے ہیں کیوں کے یہ ڈینگی وایرس سے مکمّل محفوظ رہنا چاہتے ہیں
یہ بہت ہی سادہ خاصیت رکھتے ہیں اس لئے خالی رہتے ہیں انکی خالی جگہ دیکھ کر اکثر لوگ اپنے مفادات کی خاطر ان کو بھرتے رہتے ہیں -ان کانوں کا غلط استمعال کرنے کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہو گیی ہے، کہیں ساس اور بہو کے الگ الگ کان بھرے جاتے ہیں کے لڑایی ہو سکے تو کہیں کان بھر بھر کے جھوٹے اور دھوکے پر مبنی “حلف” اٹھوا لئے جاتے ہیں -ایسے کانوں کے ملک حضرات کو اپنی “کامن سینس ” کو بھی کبھی استمعال کر لینا چاہیے جو خالق حقیقی نے عطا کی ہے
یہ تقریباً سب لوگ ہی رکھتے ہیں ، یہ بڑے ہی مضبوط جان ہوتے ہیں کیوں کے یہ دنیا میں ہونے والے ظلم و ستم ، انسانوں پر نہ ختم ہونے والے عذاب جو خود انسان ہی ڈھا رہا ہوتا ہے بچوں، عورتوں، بوڑھوں کی بغیر قصور اموات ، یہ ساری خبریں سنتے ہیں اور بار بار ایسی خبریں سن کر بھی برداشت کرتے رہتے ہیں اسلئے بڑے جی دار ہوتے ہیں
آپ یقیناً حیران ہوں گے کے اندھی آنکھیں تو دیکھیں مگر اندھے کان ، جی ایسے اندھے کان والے کے دیں رات کان میں جو چاہے کاروایی کریں یہ چوں چراں کیے بنا عمل کرتے ہیں خواہ معاملا کسی ایمان دار کو چور بنانے کا ہو یا کسی کی محنت و حلال کی کمائی کو ہڑپ کرنا، ان کو دیں رات بھڑکا بھڑکا کر اپنے رنگ میں با آسانی رنگ جا سکتا ہے اندھے کان کے مالک حضرات تعلیم کی کمی ، اور دینی علوم سے نا واقفیت کی بنا پر ذہنی امراض کا شکار پائے گئے ہیں









Recent Comments