Friday Funnies: Public Transport

ڈرایئور
یہ کسی بھی گاڑی کا وہ ڈھیٹ مسافر ہوتا ہے جو صبح سے شام تک نہایت ڈھٹایی سے ایک ہی سیٹ پر قبضہ جماے بیٹھا رہتا ہے- اسکے فرائض میں نہ صرف لوگوں کی نازک کمروں کو جھٹکے لگوانا شامل ہوتا ہے بلکہ وقفے وقفے سے سامنے لگے چوتھے شیشے سے پیچھے بیٹھے مرد و زن پر نگاہ ڈال کر اطمینان قلب حاصل کرنا بھی اسکا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے – لوکل بسوں میں اکثر اوقات پان ، تمباکو ، یا نسوار کی لذت سے لطف اندوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے – جب کے لمبے سفر کی بسوں میں نیند میں ڈوبا ہوا پایا جاتا ہے – ڈرائیور ہونے کے ناطے اسے سب سے برا فائدہ یہ ہے کے کسی ڈگری یا اعلا تعلیم کے بغیر بھی اسے کنڈکٹر کلینر کی صورت میں کوئی نہ کوئی ماتحت نصیب ہوجاتا ہے – گاڑی میں سوار ہو جانے کے بعد مسافروں کی جان و مال کے تمام تر جملہ حقوق الله تعالیٰ کے بعد بحق ڈرائیور محفوظ ہو جاتے ہیں- آج کے مہنگے اور مصروف ترین دور میں بھی یہ اس قدر خوش نصیب شخص واقیع ہوا ہے کے کسی دوسرے مسافر کو سیٹ ملے نہ ملے — بس میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہو –کھوے سے کھوا چلتا ہو لیکن اسکو ہر صورت میں سیٹ مل جاتی ہے- اسکی تمام تر جملہ خوبیوں میں سے ایک قابل ذکر خوبی یہ بھی ہےکے موصوف کسی بھی گاڑی کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے چل سکتے ہیں لیکن کوئی بھی گاڑی موصوف کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے نہیں چل سکتی – کسی بھی وقت اسکے دل کے نازک تاروں کو چھیڑ دیا جائے تو اسکی دھڑکنوں سے پنجابی دوہڑھوں ، ماہیوں ،نور جہاں اور عطا الله عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کی ترنم سنایی دینے لگتی ہے – اگر کچھ اور دیر انکے ساتھ بیٹھ کر غم غلط کیا جائے تو نہایت دل سوز بلکہ دل چیر انداز میں نصیبو کے گیت سنانے شرو کر دیتے ہیں – اپنی گاڑی کو ہمہ قسم کے شعروں،اور پھول گجروں سے سجا سنوار کر حسین دوشیزہ کا روپ دینے میں بھی انکی حُسن پرست طبیعت کا عمل دخل ہوتا ہے – غیر ملکی گیتوں سمیت پاک وطن کے متعدد گلوکاروں کو شہرت دلانے میں ان ہنر مند ڈرائیوروں کا سب سے زیادہ کمال ہوتا ہے -
کنڈیکٹر
یہ بات ہے تو بہت افسوس ناک لیکن بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کے کنڈکٹری دور حاضر کا بڑا ہی بدنصیب پیشہ ہے کیوں کے اس مزدوری میں بندہ صبح سے لے کر شام تک روپے پیسوں میں کھیلتا رہتا ہے اور رات پڑتے ہی ایندھن کی مھنگایی کے بہانے عوام سے اینٹھی گیی تمام رقم کنڈکٹر سے گاڑی کا مالک ہتھیا لیتا ہے- اور کنڈکٹر بیچارہ بے بس و لاچار بن کر اپنا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے – اس بات کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کے کنڈکٹر بھلے ڈرائیور کے ماتحت ہوتا ہے لیکن ایک ادنیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوے بھی اس کے پاس اس قدر اعلیٰ اختیارات ہوتے ہیں کے یہ حضرت جب تک گاڑی کے رہے سہے ڈھانچے پر ہاتھ پاؤں مار کر اپنی رضامندی نہ ظاہر کریں، گاڑی کسی قیمت پر رکتی یا چلتی نہیں – اس خود غرض دور میں بھی الله نے کنڈکٹر کو ایک ہمدرد دل عطا کیا ہے کے یہ خدمات خلق کا پرچم بلند کئے انسانیت کے دُکھ درد کا مداوا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے یعنی کے زیادہ سے زیادہ مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے کی دھن میں خود آئے روز کھڑکی ، پائیدان ، چھت یا دروازے کے ساتھ لٹکتا ہوا پایا جاتا ہے -
زنانہ سواری
تمام اقسام کے مسافروں میں سب سے زیادہ معروف و مقبول سواری ، زنانہ سواری ، ہوتی ہے – سواری اگر خاتون ہو ، کسی گاؤں کی ہو، پند و نصائح میں ملکہ رکھتی ہو مزاج بھی آتشی پایا ہو تو گاڑی کی رفتار اور گاڑی کے ماحول کو معمول پر رکھنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ضرور ادا کرتی ہے – ان سواریوں کو پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے اگر کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو کسی نہ کسی ہمدرد کو اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے بشرطیکہ یہ ہمدرد دل ہی دل میں اپنی ہمدردی کے نتیجے میں کسی جواب کا خواہش مند نہ ہو -
تحریر :: وقار مسعود خان







Leave a Reply