میں شاعر ہوں تو اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں
اس حسین اسرار کے بارے میں
بتایے تو بھلا کیا ہے ؟
محبت آخر شے کیا ہے ؟
وصی میں ہنس کے کہتا ہوں
کسی پیاسے کو اپنے حصے کا پانی پلانا بھی
محبّت ہے
بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی
محبّت ہے
کسی کے واسطے ننھی سی قربانی، محبّت ہے
کہیں ہم راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی
کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا
محبّت ہے
ہو دل میں درد، ویرانی مگر پھر بھی
کسی کے واستے جبراً ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا
زبردستی ہی مسکانا،
محبّت ہے
کہیں بارش میں سہمے، بھیگتے بلّی کے بچے کو
ذرا سی دیرکو گھر لے کے آنا بھی
محبّت ہے
کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو
تو اس چڑیا کو
پنکھے بند کر کے راستہ باہر کا دکھلانا
محبّت ہے
کسی کے زخم سہلانا
کسی روتے ہوے کے دل کو بہلانا، محبّت ہے
کے میٹھا بول، میٹھی بات، میٹھے لفظ، سب کیا ہے ؟
محبّت ہے
محبّت ایک ہی بس ایک ہی انسان کی خاطر
مگن رہنا
ہمہ وقت اسکی باتوں، خشبوؤں میں
ڈولنا کب ہے ؟
محبّت صرف اسکی زلف کے بل کھولنا کب ہے ؟
محبّت کے ہزاروں رنگ
لاکھوں استعارے ہیں
کسی بھی رنگ میں ہو یہ
مجھے اپنا بناتی ہے
یہ میرے دل کو بھاتی ہے
وصی شاہ
Image credit: Lake in colours Painting by Anil Nene










2 comments
Tayyeba says:
December 31, 2009 at 2:35 pm (UTC 5)
dr.ziakhan says:
May 5, 2010 at 9:07 pm (UTC 5)
classic poetry………
nice sharing faiza