Continued from Part 1

Iqbal 2

مجھے کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ باغ و بہار (قصہ چہار درویش) حاتم طائی، طلسم ہو شربا اور عبد الحلیم شرر کے سب ناول پڑھ ڈالے تھے۔ ساتویں جماعت کے امتحان کے قریب میرے ہاتھ الف لیلہ لگ گئی اور یہ کتاب مجھے اتنی اچھی لگی کہ رات گئے تک پڑھتا رہتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویں جماعت کے امتحان میں ناکام ہوگیا۔ جب ابا جان کو علم ہوا کہ میں الف لیلہ میں منہمک ہونے کی وجہ سے امتحان میں ناکامیاب رہا ہوں تو برہم نہ ہوئے۔ کہنے لگے اگر تم امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد الف لیلہ پڑھتے تو تمہیں اور بھی لطف آتا۔“


ابا جان کی وفات سے کوئی دو ایک ماہ پہلے پنڈت نہرو کو ان سے ملنے کے لئے آنا تھا۔ ابا جان نے مجھے بُلا کر حکم دیا کہ پنڈت نہرو کے استقبال کے لئے ڈیوڈھی میں کھڑا رہوں۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ پنڈت نہرو کون ہیں؟ کہنے لگے ”جس طرح محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد ہیں، اسی طرح پنڈت نہرو ہندﺅوں کے لیڈر ہیں۔“ میں باہر کھڑا پنڈت جی کا انتظار کررہا۔ جب وہ تشریب لائے تو میں نے انہوں السلام علیکم کہا اور انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کا جواب دیا، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر نہایت شفقت سے ابا جان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ ابا جان ان سے بڑے تپاک سے ملے اور صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ لیکن پنڈت جی نے نیچے فرش پر بیٹھنے پر اصرار کیا۔ بالآخر وہ فرش پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئے اور ابا جان بستر پر لیٹے ان سے باتیں کرنے لگے۔


آخری رات ابا جان کی چارپائی گول کمرے میں بچھی تھی۔ عقیدت مندوں کا جمگھٹا تھا۔ میں کوئی نو بجے کے قریب اس کمرے میں داخل ہوا تو پہچان نہ سکے۔ پوچھا ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا ”میں جاوید ہوں۔“ ہنس پڑے۔ بولے ”جاوید بن کر دکھاﺅ تو جانیں۔“ پھر اپنے قریب بیٹھے ہوئے چودھری محمد حسین سے مخاطب ہوئے ”چودھری صاحب، اسے جاوید نامہ کے آخر میںوہ دعا ’خطاب بہ جاوید‘ ضرور پڑھا دیجئے گا۔“


اُس رات ہمارے ہاں بہت سے ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ ہر کوئی گھبرایا ہوا دکھائی دیتا تھا، کیونکہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ آج کی رات مشکل سے کٹے گی۔ کوٹھے کے صحن میں کئی جگہوں پر دو دو، تین تین کی ٹولیوں میں لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ابا جان سے ڈاکٹروں کی یہ رائے پوشیدہ تھی مگر وہ بڑے تیز فہم تھے۔ اس کے باوجود وہ اس رات ضرورت سے زیادہ ہشاس بشاش نظر آتے تھے۔


مجھے بھی حالات سے آگاہ نہ کیا گیا۔ اس لئے میں معمول کے مطابق اپنے کمرے میں جاکر سورہا۔ مگر صبح طلوعِ آفتاب سے پیشتر مجھے علی بخش نے آکر جنجھوڑا اور چیختے ہوئے کہا ”جاﺅ دیکھو، تمہارے ابا جان کو کیا ہوگیا ہے۔“


نیند میری آنکھوں سے کافور ہوگئی اور میں گھبراکر اُٹھ بیٹھا۔ گھر کے مختلف حصوں سے سسکیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں ساتھ کے کمرے میں پہنچا تو مُنیرہ تخت پر ا کیلی بیٹھی اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپائے رورہی تھی۔ مجھے ابا جان کے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ میری طرف لپکی اور میرے بازو سے چمٹ گئی۔ اس کے قدم لڑکھڑارہے تھے۔ لیکن اس کے باجود وہ میرے ساتھ چل رہی تھی۔ ہم دونوں اُن کے کمرے کے دروازے تک پہنچ کر رُک گئے۔ میں نے دہلیز پر کھڑے کھڑے اندر جھانکا۔ ان کے کمرے میں کوئی بھی نہ تھا۔ کھڑکیاں کھلی تھیں اور وہ چارپائی پر سیدھے لیٹے تھے۔ انہیں گردن تک سفید چادر نے ڈھانپ رکھا تھا جو کبھی کبھار ہوا کے جھونکوں سے ہل جاتی۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرہ قبلے کی طرف تھا، مونچھوں کے بال سفید ہوچکے تھے اور سر کے بالوں پر میرے کہنے سے آخری بار لگائے ہوئے خضاب کی ہلکی سی سیاہی موجود تھی۔


منیرہ کی ٹانگیں دہشت سے کانپ رہی تھیں۔ اس نے میرے بازو کو زور سے پکڑرکھا تھا اور مجھے اس کی سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی، مگر میں کوشش کے باوجود نہ رو سکا۔ مجھے خوف تھا کہ اگر میں رویا تو وہ ابھی اُٹھ کھڑے ہوں گے، انگلی کے اشارے سے ہمیں قریب آنے کو کہیں گے اور جب ہم ان کے قریب پہنچ جائیں گے تو اپنے ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھالیں گے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے سختی سے مجھ سے کہیں گے ”تمہیں یوں نہ رونا چاہئے۔ یاد رکھو! تم مرد ہو اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے۔“
۔