یہ کون لوگ ہیں جسموں سے آگ باندھے ہوے
کے موت جنہیں آپ دیکھنے کو آتی ہے
خود اپنے شہر کی سڑکوں پے چل نہیں سکتے
گھروں کے ہوتے جنہیں بے گھری ستاتی ہے

کبھی بہار کے قاصد، کبھی ہیں دہشت گرد
جو چاہے انکو تری زر گری بناتی ہے

ڈرو غضب کے خدا سے کے اسکی ایک نظر
پلک جھپک میں پہاڑوں کو یوں اڑاتی ہے
کے یہ سب نخوت و حشمت، تمام شان و سپہ
غبارِ خاک میں تبدیل ہوتی جاتی ہے
نہیں یقین جو آتا تو مُڑ کے خود دیکھو
تمھارے جیسوں کو تاریخ کیا سکھاتی ہے


امجد اسلام امجد کی کتاب ” یہیں کہیں ” سے انتخاب