Iman, Umeed aur Mohabbat – Umera Ahmed

ایمان، امید اور محبت میری دوسری کتاب ہے، پہلی کتاب کی طرح دوسری کتاب کی اشاعت میں بھی میری کوئی کردار نہیں ہے۔ صاحب کتاب ہونا رائٹر کی ذمہ داری کو بڑھا دیتا ہے اور میں نے ہمیشہ اس ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی ہے، لیکن شاید اب مجھ کو یہ ذمہ داری اٹھانے کی عادت اپنا لینی چاہیئے۔
اس کتاب میں وہ تحریریں ہیں جو پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ انہیں ملنے والے رسپانس سے بھی آپ واقف ہیں میں ان تحریروں کے بارے میں یہی کہوں گی کہ یہ میرے پچھلے تین سال کی نسبتا” بہتر تحریریں ہیں، بہترین نہیں۔۔۔بہترین اس لیے نہیں کیونکہ بہترین کے بعد خلا آ جاتا ہے اور میں ابھی کسی خلا میں پیر رکھنا نہیں چاہتی۔
میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کو زندگی کے کچھ اور رنگ دکھاؤں یا زندگی کو اس اینگل سے دکھاؤں جہاں سے میں دیکھتی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ رنگ بہت پھیکے یا ضرورت سے زیادہ گہرے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرا اینگل چیزوں کو یا زندگی کو اس طرح آپ کے سامنے نہ پیش کر سکے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔
مگر بہرحال دنیا پر موجود چھ ارب انسانوں میں کم از کم ایک انسان اسی اینگل سے دیکھتا ہے اور وہی رنگ زندگی کے کینوس پر بکھیرنا چاہتا ہے، جو ان کہانیوں کے کردار استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ انسان میں ہوں۔
یہ وہ تحریریں نہیں ہیں جو اگر میں نہ لکھتی تو کوئی بھی نہ لکھ پاتا۔ اگر میں انہیں نہ لکھتی تو کوئی بھی لکھ سکتا تھا اور شاید مجھ سے بہتر لکھتا۔
بہت سے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کچھ لکھنا یا کہنا انسان کو بہت خوشی دیتا ہے۔ مگر صرف اپنی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا یا لکھنا اس سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔ ان تحریروں میں، میں نے اپنی بات کہی ہے یا لکھی ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے شاید آپ انہیں اپنی بات سمجھیں۔ آئیے زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد
اس کتاب میں وہ تحریریں ہیں جو پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ انہیں ملنے والے رسپانس سے بھی آپ واقف ہیں میں ان تحریروں کے بارے میں یہی کہوں گی کہ یہ میرے پچھلے تین سال کی نسبتا” بہتر تحریریں ہیں، بہترین نہیں۔۔۔بہترین اس لیے نہیں کیونکہ بہترین کے بعد خلا آ جاتا ہے اور میں ابھی کسی خلا میں پیر رکھنا نہیں چاہتی۔
میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کو زندگی کے کچھ اور رنگ دکھاؤں یا زندگی کو اس اینگل سے دکھاؤں جہاں سے میں دیکھتی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ رنگ بہت پھیکے یا ضرورت سے زیادہ گہرے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرا اینگل چیزوں کو یا زندگی کو اس طرح آپ کے سامنے نہ پیش کر سکے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔
مگر بہرحال دنیا پر موجود چھ ارب انسانوں میں کم از کم ایک انسان اسی اینگل سے دیکھتا ہے اور وہی رنگ زندگی کے کینوس پر بکھیرنا چاہتا ہے، جو ان کہانیوں کے کردار استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ انسان میں ہوں۔
یہ وہ تحریریں نہیں ہیں جو اگر میں نہ لکھتی تو کوئی بھی نہ لکھ پاتا۔ اگر میں انہیں نہ لکھتی تو کوئی بھی لکھ سکتا تھا اور شاید مجھ سے بہتر لکھتا۔
بہت سے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کچھ لکھنا یا کہنا انسان کو بہت خوشی دیتا ہے۔ مگر صرف اپنی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا یا لکھنا اس سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔ ان تحریروں میں، میں نے اپنی بات کہی ہے یا لکھی ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے شاید آپ انہیں اپنی بات سمجھیں۔ آئیے زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ عمیرہ احمد







One Comment on “Iman, Umeed aur Mohabbat – Umera Ahmed”
Trackbacks:
Leave a Reply