مادے کي تين قسميں ہيں ٹھوس، مايع اور گيس۔ٹھوس کا مطلب ہے ٹھوس، جيسے ٹھوس دلائل، ٹھوس اقدامات، ٹھوس نتائج وغيرہ۔
ٹھوس دلائل ايسے دعوئوں کيلئے لائے جاتے ہيں جو خود کمزور ہوں، سب سے ٹھوس دليل اب تک لاٹھي ہي ثابت ہوئي ہے، بھينسوں کيلئے بھي، انسانوں کيلئے بھي۔
ٹھوس اقدامات اتنے ٹھوس ہوتے ہيں کہ کبھي نہيں کئے جاتے ہيں، بس حکومتيں ان کے ٹھوس وعدے کرتي ہے، ٹھوس نتيجہ نکلتا ہے کہ ايسي حکومتيں بہت دن نہيں رہتي۔
ٹھوس اشيا اپني شکل نہيں بدلتيں، ہاں دوسروں کي بدل ديتي ہيں، پتھر ٹھوس ہے جيسا ويسا ہي رہتا ہے، ليکن آدمي کے لگے تو وہ کيسا ہي ٹھوس ہو اس ميں سے مائع اور گيس وغيرہ نکلنے لگتے ہيں، مايع جيسے آنسو، گيس جيسے آہيں گالياں وغيرہ۔
تحریر : ابن انشاء









1 comment
جعفر says:
May 19, 2009 at 9:27 am (UTC 5)
ابن انشاء ادیبوں میں ایک استثناء ہیں
اچھے شاعر، نثر نگار اچھے نہیں ہوتے عموما اور بالعکس
لیکن ابن انشاء اعلی شاعر ہیں اس سے بھی اچھے انشاء پرداز ہیں
بہت عمدہ اقتباس لکھا ہے آپ نے
شکریہ