میں تو ہر طرح کے اسباب ِہلاکت دیکھوں
اے وطن کاش تجھے اب کے سلامت دیکھوں
وہ جو قاتل تھے، وہ عیسا نفسی بیچتے ہیں
وہ جو مجرم ہیں ،انہیں اہل ِعدالت دیکھوں
وہ جو بے ظرف تھے اب صاحب ِمیخانہ ہوئے
اب بمشکل کوئی دستار سلامت دیکھوں
گردنیں ٹوٹی ہوئی، سر ہیں خمیدہ جن کے
ان کو سرگشتہء پندار ِامامت دیکھوں
قیمت ِبے ہنراں ، نیلم و مرجاں ٹھہری
قسمت ِدیدہ وراں ، سنگ ِملامت دیکھوں
Ahmed Faraz









1 comment
Samah says:
February 16, 2009 at 1:41 am (UTC 5)
Lovely.