اقبال، ایک باپ کی حیثیت سے

جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

میں نے سنا ہے کہ میری پیدائش سے چند سال قبل ابا جان حضرت شیخ احمد سرہندی مجددِ الف ثانی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ آپ نے حضرت مجدد سے یہ عہد بھی کیا کہ اگر خداوندتعالیٰ نے آپ کو بیٹا دیا تو اُسے ساتھ لے کر مزار پر حاضر ہوں گے۔


آپ کی دعا پوری ہوئی اور کچھ عرصے بعد جب میں نے ہوش سنبھالا تو آپ مجھے اپنے ہمراہ لے کر دوبارہ سرہند شریف پہنچے۔ اس سفر کی دھندلی سی یادیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ میں اُن کی انگلی پکڑے مزار میں داخل ہوا۔ گنبد کے تاریک مگر پروقار ماحول نے مجھ پر ہیبت سی طاری کر رکھی تھی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میں اپنے چاروں طرف گھور رہا تھا۔ جیسے میں اس مقام کی خاموش ویرانی سے کچھ کچھ شناسا ہوں۔ ابا جان نے مجھے اپنے قریب بٹھالیا۔ پھر قرآن مجید کا ایک پارہ منگوایا اور دیر تک پڑھتے رہے۔ اس وقت صرف ہم دو ہی مزار کے قریب بیٹھے تھے۔ گنبد کی خاموش اور تاریک فضا میں ان کی آواز کی گونج ایک ہول ناک اِرتعاش پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو اُمڈ کر رخساروں پر ڈھلک آئے تھے۔ ایک روز وہاں ٹھہرنے کے بعد ہم گھر واپس آگئے۔ لیکن مجھ پر اس راز کا اِنکشاف نہ ہوا کہ آخر اس مزار پر جانے کا مقصد کیا تھا اور وہ آنسو کس لیے تھے۔ مجھے یاد ہے میں بچپن میں اکثر یہی سوچا کرتا تھا۔


اپنی زندگی میں ابا جان نے مجھے شاید ہی کوئی ایسا موقع دیا ہوگا جس سے میں ان کی شفقت یا اس اُلفت کا اندازہ لگاسکتا جو انہیں میری ذات سے تھی۔ والدین بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں، انھیں گلے سے لگاتے ہیں، انھیں چومتے ہیں مگر مجھے ان کے چہرے سے کبھی اس قسم کی شفقت کا احساس نہ ہوا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انھیں مجھ سے محبت نہ تھی، سراسر غلط ہے۔ ان کی محبت کے اظہار میں ایک اپنی طرز کی خاموشی تھی جس تک پہنچنے کی اہلیت میرا ناپختہ ذہن نہ رکھتا تھا۔ بہرحال، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، میں ان سے محبت کم کرتا اور خوف زیادہ کھاتا تھا۔


بعض اوقات والدین میں اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں تنازعہ بھی ہوجایا کرتا ہے۔ اسی طرح اباجان اور اماں جان میں میری وجہ سے کئی بار تکرار ہوجاتی۔ مثلاًاماں جان کو میرے متعلق ہر گھڑی یہی فکر دامن گیر رہتی کہ جب کبھی میں اکیلا کھانا کھاﺅں، پیٹ بھر کر نہیں کھاتا۔ اس لئے وہ ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرتیں۔ یہاں تک کہ میں آٹھ نو برس کا ہوگیا پھر بھی مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھانے کی عادت نہ پڑی، ابا جان اس بات پر بارہا ناراض ہوئے کہ تم اسے بگاڑرہی ہو۔ اگر یہ جوان ہوکر خود کھانا نہ کھاسکا تو کیا ہوگا؟ ہم لوگ رات کو اکثر خشکہ کھایا کرتے تھے لہٰذا اب یوں ہوتا کہ بطور احتیاط چمچہ میری پلیٹ کے قریب رکھ دیا جاتا مگر کھانا اماں جان ہی کھلاتیں۔ ابا جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ دبے پاﺅں زنانے میں آیا کرتے۔ اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پاتی۔ بہرحال، جب بھی اماں جان مجھے کھلارہی ہوتیں، ان کا دھیان باہر رہتا اور جونہی وہ ابا جان کے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنتیں اپنا ہاتھ پھرتی سے علیحدہ کرکے چمچہ میرے آگے رکھ دیتیں اور میں خود کھانا کھانے میں مشغول ہوجاتا۔ مجھے یقین ہے کہ ابا جان کئی مرتبہ اس کا سراغ لگاچکے تھے۔ لیکن وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے بعد چلے جایا کرتے تھے۔


بہرحال ابا جان سے میں نے بہت کم مار کھائی ہے۔ میرے لئے ان کی جھڑکی ہی کافی ہوا کرتی۔ وہ جب کبھی بہت برہم ہوتے تو ان کے منھ سے ہمیشہ یہی الفاظ نکلتے ”احمق آدمی!بیوقوف!“ مجھے یہاں ابا جان سے مار کھانے کا ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ بچپن میں مجھے روز ایک آنہ خرچ کرنے کو ملا کرتا اور اسے خرچ کرچکنے کے بعد خواہ میں اماں جان کی کتنی ہی منتیں کرتا، مجھے مزید کچھ نہ ملتا۔ ایک دفعہ اتفاق یوں ہوا کہ کوئی مٹھائی بیچنے والا ہمارے گھر کے سامنے سے گزرا۔ مٹھائی دیکھ کر میں للچاگیا اور اماں جان کے پاس دوڑا آیا کہ شاید کچھ مل جائے مگر انہوں نے ٹکا سا جواب دے دیا۔ طبیعت ضدی تھی۔ خیال آیا کہ اس خوانچہ فروش سے پوچھوں کہ پیتل لے کر مٹھائی دے سکتا ہے یا نہیں۔ بد قسمتی سے اس نے ہاں کردی۔ بس پھر کیا تھا۔ ابا جان کے کمرے میں جا گھسا اور بڑے ٹیبل فین کے پیچھے لگے پیتل کے پرزے کو اتار کر خوانچہ فروش کو دے آیا، اور مٹھائی لے لی۔ لیکن شامتِ اعمال سے ہمارا شوفر ادھر سے گزررہا تھا۔ اس نے ابا جان سے شکایت کردی۔ میں خوشی خوشی اچھلتا کودتا گھر میں داخل ہوا تو مجھے اطلاع ملی کہ ابا جان بلارہے ہیں۔ ڈرتے ڈرتے ان کے کمرے میں گیا۔ وہ آرام کرسی پر نیم دراز تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور تین چار تھپڑ میری گردن پر جمادیئے۔ ابا جان مجھے جب کبھی مارتے گدی پر مارتے۔ وہ زور سے تو نہ مارتے مگر گدی جسم کا ایسا حصہ ہے جہاں چوٹ زیادہ لگتی ہے۔ اس کے علاہ اگر مجھے ان سے کبھی مار کھانے کا اتفاق ہوا تو اس کی وجہ نوکروں کو برا بھلا کہنا یا جھوٹ بولنا تھی۔


بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ ابا جان نے میری کسی شرارت پر مجھے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تو اماں جان درمیان میں آکھڑی ہوئیں اور انہیں روک دیا۔ ےا اگر اماں جان نے مجھے زیادہ پیٹا تو ابا جان خفا ہوئے کہ بچے کو اس بے دردی سے نہیں مارنا چاہیے۔ ایک دفعہ میں آنکھوں پر پٹی باندھے اماں جان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ ٹھوکر لگی اور منہ کے بل گر پڑا جس کی وجہ سے ہونٹ کٹ گیا اور منھ سے خون جاری ہوگیا۔ اتفاق سے اسی وقت ابا جان زنانے میں داخل ہوئے اور میرے منھ سے خون بہتا دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔


ہم گھر میں شور نہ مچاسکتے تھے۔ اگر میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ باہر لان میں کرکٹ کھیل رہا ہوتا تو ہمیں حکم ملتا کہ یہاں مت کھیلو اور ہم منھ لٹکائے وہاں سے چل دیتے۔ لیکن بعض اوقات وہ ہمارے کھیل میں خود بھی شریک ہوجایا کرتے۔ ہمارے ہاتھ ان کی طرف گیند پھینکتے پھینکتے تھک جاتے، مگر وہ بلا تھامے ٹھپ ٹھپ کرتے رہتے۔ ایک دفعہ وہ اندر بیٹھے تھے۔ ہم نے ہٹ جو لگائی تو گیند دروازے کے شیشے کو توڑتی ہوئی ان کے کمرے میں جاگری۔ اس دن سے ہمیں کرکٹ کھیلنے کی ممانعت کردی گئی۔ کئی بار جب میں کوٹھے پر پتنگ اُڑا رہا ہوتا تو وہ دبے پاﺅں اُوپر آجاتے اور میرے ہاتھ سے پتنگ لے کر خود اُڑانے لگتے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ انھوں نے جب کبھی کسی پتنگ سے پیچ لڑایا تو ہمیشہ ہماری پتنگ ہی کٹی۔


مجھے خواب کی طرح یاد ہے کہ ہمارے یہاں ایک مرتبہ ایک مہمان آکر ٹھہرے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار انھیں ابا جان کو اقبال کہہ کر پکارتے سنا۔ وہ میانہ قد باریش یعنی داڈھی والے بزرگ نہایت خوش پوش اور خوش خور تھے۔ بمبئی سے آئے تھے اور مجھے چاکلیٹ کا ڈبا تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ ان کے قہقہے سارے گھر میں گونجتے رہتے اور ان کے لئے اماں جان روز طرح طرح کے کھانے پکاتیں۔ ان کا نام مولانا محمد علی تھا۔ یہ وہی محمد علی تھے جن کے متعلق اس زمانے میں مجھے یہ شعر حفظ ہوگیا تھا۔۔۔


؂بولیں اماں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو


دو ایک مرتبہ میں اماں جان اور ابا جان کے ساتھ سیالکوٹ بھی گیا۔ تب دادا جان زندہ تھے گو بہت ضعیف ہوچکے تھے اور اپنے کمرے میں چارپائی پر بیٹھے رہتے تھے۔ میں ان کے پاس جاتا تو آنکھوں پر اپنے ہاتھ کا سایہ کرکے مجھے دیکھتے اور پوچھتے کہ کون ہے؟ جب میں بتاتا کہ میں جاوید ہوں تو ہنس پڑتے، طاق میں سے ٹین کا ڈبا اٹھاتے اور اس میں سے برفی نکال کر مجھے کھانے کو دیتے۔ سیالکوٹ کے مکان میں یا محلہ چوڑی گراں کی گلیوں میں جہاں میں بھاگتا پھرتا تھا، وہیں ابا جان کا بچپن بھی گزرا تھا۔


میرے بچپن میں رمضان کا مہینا سردیوں میں آیا کرتا اور عید بھی سردیوں میں آتی تھی۔ رمضان کے دنوں میں اماں جان باقاعدہ روزے رکھتیں اور قرآن مجیدکی تلاوت کیا کرتیں۔ گھر کے ملازم بھی روزے رکھتے۔ مجھے سحری کھانے کا بہت شوق تھا۔ اور ایک آدھ بار ابا جان کے ساتھ سحری کھانا بھی یاد ہے۔ وہ روزہ کبھی کبھار رکھتے تھے اور جب رکھتے تو ہر آدھ گھنٹے بعد علی بخش کو بُلا کر پوچھتے کہ افطاری میں کتنا وقت باقی ہے۔


جب عید کا چاند دکھائی دیتا تو گھر میں بڑی چہل پہل ہو جاتی۔ میں عموماً ابا جان کو عید کا چاند دکھایا کرتا تھا۔ مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی لیکن اس شب گرم پانی سے اماں جان مجھے نہلاتیں اور میں بڑے شوق سے نہاتا۔ نئے کپڑے یا جوتوں کا نیا جوڑا سرہانے رکھ کر سوتا۔ صبح اُٹھ کر نئے کپڑے پہنے جاتے۔ عیدی ملتی۔ کم خواب کی ایک اچکن جس کے بٹن چاندی کے تھے، مجھے ہر عید کو اماں جان پہنایا کرتیں۔ سر پر تلے کی گول ٹوپی پہنتا اور کلائی پر باندھنے کے لئے سونے کی گھڑی بھی دی جاتی جو افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ نے میرے لئے تحفے کے طور پر بھیجی تھی۔ پھر سج دھج کر ابا جان کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لئے جاتا۔ ان کی انگلی پکڑے شاہی مسجد میں داخل ہوتا اور ان کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتا۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم گھر آتے۔ ابا جان کی عادت تھی کہ وہ عید کے راز سویّوں پر دہی ڈال کر کھایا کرتے تھے۔ سارا دن ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا اور دن کھاتے پیتے ہنستے کھیلتے گزر جاتا۔ رات ہوتی تو اماں جان سونے کی گھڑی اور اچکن اُتروالیتیں اور پھر اگلی عید تک مجھے ان کا انتظار کرنا پڑتا۔


کبھی بیمار ہوتا تو اماں جان اور ابا جان پریشان ہو جاتے۔ میرے سرہانے روپوں کے نوٹ رکھے جاتے اور کھیلنے کے لئے اماں جان مجھے نواشرفیاں دیتیں جو میری پیدائش کے وقت ابا جان کے دووستوں نے بطور تحفہ دی تھیں۔ اماں جان کا خیال تھا کہ بچہ بیمار ہو اور اسے کھیلنے کے لئے روپے یا اشرفیاں دی جائیں تو وہ جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ ابا جان مجھ سے بار بار پوچھتے کہ کہیں درد تو نہیں ہورہا۔ اور اگر میں انکار میں سر ہلاتا تو کہتے ”منھ سے بولو، بیٹا سر مت ہلاﺅ۔“ میرا بچپن زیادہ تر تنہائی میں گزرا۔ ؁۱۹۳۰ میں منیرہ پیدا ہوئی لیکن وہ مجھ سے چھ سال چھوٹی تھی، اس لئے ہم اکٹھے نہیں کھیل سکتے تھے۔


مجھے وہ دن بھی خوب یاد ہے جب میں پہلی بار اسکول گیا۔ میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی ہوگی۔ اماں جان بڑی فکر مند تھیں کہ میں سارا دن گھر سے باہر کیسے رہ سکوں گا۔ ابا جان انہیں دلاسا دیتے رہے۔ لیکن ساتھ خود بھی علی بخش سے پوچھتے کہ جاوید کو لینے کوئی نہیں گیا۔ چھٹی ہونے پر جب میں گھر آیا تو اماں جان برآمدے میں کھڑی میری راہ دیکھ رہی تھیں۔ ابا جان بھی اپنے کمرے سے اُٹھ کر آگئے اور مجھے سے پوچھنے لگے کہ کہیں اُداس تو نہیں ہوگئے تھے۔


مجھے موسیقی سے بھی خاصا لگاﺅ تھا، لیکن ہمارے گھر میں نہ تو ریڈیو تھا اور نہ گراموفون بجانے کی اجازت تھی کیونکہ ابا جان ایسی چیزوں کو پسند نہ کرتے تھے۔ البتہ گانا سننے کا انہیں شوق ضرور تھا اور اچھا گانے والوں کو کبھی گھر بُلواکر ان سے اپنا یا اوروں کا کلام سنتے تو مجھے بھی پاس بٹھالیا کرتے۔ فقیر نجم الدین مرحوم ابا جان کو اکثر ستار بجاکر سنایا کرتے تھے۔ خود ابا جان کو جوانی میں ستار بجانے کا شوق رہ چکا تھا۔ لیکن جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ گئے تو اپنی ستار کسی دوست کو دے گئے۔ ؁۱۹۳۱ میں جب گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لئے وہ انگلستان گئے تو اس وقت میری عمر سات سال کے لگ بھگ تھی۔ میں نے انھیں اُوٹ پٹانگ خط لکھا اور خواہش ظاہر کی کہ جب وہ واپس تشریف لائیں تو میرے لئے ایک گراموفون لیتے آئیں۔ گراموفون تو وہ لے کر نہ آئے لیکن میرا لکھا ہوا خط ان کی مندرجہ ذیل نظم کا باعث ضرور بنا۔


؂دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر


اماں جان کی آرزو تھی کہ ابا جان تمام دن گھر پر پڑے رہنے کی بجائے کہیں ملازمت کرلیں۔ یہ سن کر ابا جان عموماً مسکرا دیا کرتے اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں مَیںنے بھی اس معمّے کو سلجھانے کی بارہا کوششیں کہ کہ میرے ابا جان کیا کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھ بیٹھتا تو میں خاموش ہوجاتا کیوں کہ میں خود نہ جانتا تھا۔ اسی طرح اماں جان اس بات پر اصرار کرتیں کہ کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر بنوائیے۔ ان دنوں ہم میکلوڈ روڈ پر رہا کرتے تھے۔


چند سال بعد اماں جان کے گھر کی اخراجات سے بچائے ہوئے روپوں سے زمین خریدی گئی اور جاوید منزل کی تعمیر شروع ہوئی۔ زمین اور مکان اماں جان کے نام تھے اور انہی کی ملکیت تھے۔ بہرحال جب تعمیر مکمل ہوگئی تو ہم میکلوڈروڈ کے مکان سے اُٹھ آئے۔ ان دنوں اماں جان سخت علیل تھیں۔ انہیں چارپائی پر ڈال کر اندر لایا گیا۔ دوسرے دن ابا جان انہیں دیکھنے کے لئے زنانے میں آئے تو ان کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے۔ انہوں نے اماں جان سے کہا کہ اس مکان کو جاوید کے نام کردو۔ لیکن اماں جان نہ مانتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ مجھے کیا معلوم ےہ لڑکا بڑا ہو کر کیسا نکلے۔ میں انشاءاللہ جلد صحت یاب ہوجاﺅںگی۔ آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔ لیکن ابا جان نے انہیں آگاہ کیا کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس پر انہوں نے ہبہ نامہ پر دستخط کردئیے۔ یوں ”جاوید منزل“ میرے نام منتقل ہوگئی۔ ابا جان نے ایک کرایہ نامہ بھی تحریر کیا جس کی رو سے آپ میرے کرایہ دار کی حیثیت سے رہنے لگے۔ آپ سامنے کے تین کمروں میں رہائش کا کرایہ ہر ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ادا کرتے تھے۔


نئے گھر میں قدم رکھنے کے تیسرے یا چوتھے روز اماں جان پر غشی کا عالم طاری ہوگیا۔ کوئی پانچ بجے شام کے قریب جب مجھے ان کے پاس لے جایا گیا تو وہ بستر پر بیہوش پڑی تھیں۔ میں نے ان کے حلق میں شہد ٹپکایا اور روتے ہوئے کہا کہ اماں جان میری طرف دیکھئے۔ انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ لحظہ بھر کے لئے میری طرف دیکھا اور پھر آنکھیں بند کرلیں۔ اسی شام غشی کے عالم میں اللہ کو پیاری ہوگئیں اور رات کو دفن کردی گئیں۔ ان کی وفات کے وقت میری عمر دس برس تھی اور منیرہ کی چار برس۔


اماں جان کے انتقال کے بعد ہم دونوں بچے ابا جان کے زیادہ قریب آگئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت اماں جان فوت ہوئیں، ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے روتے ہوئی ابا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ وہ حسب معمول اپنی چارپائی پر نیم دراز تھے، کیونکہ ان دنوں خود بھی بیمار رہتے تھے۔ گلا بیٹھ گیا تھا اور صاف بول نہ سکتے تھے۔ میں اور منیرہ ان کے دروازے تک پہنچ کر ٹھٹک سے گئے۔ ہمیں کھڑا دیکھ کر انہوں نے انگلی کے اشارے سے ہمیں قریب آنے کو کہا اور جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھا لیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے سختی سے مجھ سے کہا ”تمہیں یوں نہ رونا چاہئے۔ یاد رکھو! تم مرد ہو اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے۔“ اس کے بعد زندگی میں پہلی مرتبہ انہوں نے ہم دونوں بہن بھائیوں کی پیشانیوں کو باری باری چُوما۔


اماں جان کی بے وقت موت نے ابا جان کو پژمردہ سا کردیا تھا۔ لیکن اب وہ ہم دونوں بچوں کا بے حد خیال رکھنے لگے تھے۔ ہمیں حکم تھا کہ ان سے مل کر اسکول جایا کریں۔ جانے سے پہلے اور آنے کے بعد وہ ہم دونوں کی پیشانی پر بوسہ دیا کرتے۔ مُنیرہ کو مجھ سے زیادہ ان کا قرب حاصل تھا اور وہ رات کو عموماً انھی کے بستر میں سویا کرتی تھی۔ اس کی ہر خواہش پوری کردی جاتی اور اگر میں کبھی اسے جھڑکتا یا مار بیٹھتا تو میری شامت آجاتی۔ ابا جان کو ہم دونوں بہن بھائیوں کے جھگڑنے پر بہت رنج ہوتا تھا۔ وہ اپنے دوستوںسے اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ دونوں آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اور دوستوں کے یہ کہنے کے باوجود کہ جس گھر میں بچے ہوں وہاں لڑائی جھگڑا ہوا ہی کرتا ہے، ان کی تسلّی نہ ہوتی۔ مجھ سے بار ہا کہا کرتے کہ تمہار ا دل پتھر کا ہے۔ تم بڑے سنگ دل ہو۔اتنا نہیں جانتے کہ بہن کے سوا تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔


مجھے مصوری سے بھی دلچپی تھی۔ لیکن ابا جان کو میرے اس شوق کا علم نہ تھا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک تصویر بنائی جو اتفاق سے خاصی اچھی بن گئی۔ ان دنوں تایا جان سالکوٹ سے لاہور آئے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں مقیم تھے۔ وہ انجنیر تھے۔ انہوں نے میری بنائی ہوئی تصویر دیکھی تو بے حد خوش ہوئے۔ فوراً تصویر ہاتھ میں لے کر ابا جان کو دکھانے چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے آگیا۔ ابا جان کو پہلے تو یقین نہ آیا کہ تصویر میں نے بنائی ہے لیکن جب یقین آگیا تو میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے فرانس، اٹلی اور انگلستان سے میرے لئے خاص طور پر آرٹ کی کتاب منگوائیں۔ انہیں خیال تھا کہ دنیا کے بہترین مصوروں کو دیکھ کر میرا مصوری کا شوق بڑھے گا۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جب میری نظر سے مصوری کے شاہکار گزرے تو میں نے اس خیال سے ہمت ہار دی کہ اگر میں ساری عمر بھی کوشش کروں تو ایسی خوبصورت تصاویر نہیں بناسکتا۔


ابا جان کی تمنا تھی کہ میں تقریر کرنا سیکھوں۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ میں کشتی لڑا کروں۔ اس سلسلے میں میری لئے گھر میں ایک اکھاڑا بھی کھدوایا گیا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اکھاڑے کی مٹی میں ڈنڈ پیلنا یا لنگوٹی باندھ کر لیٹ رہنا صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ پھر بڑی عید کے روز ہمیشہ مجھے تلقین کرتے کہ بکراذبح ہوتے وقت میں وہاں موجود رہوں۔ لیکن ان کا اپنا یہ حال تھا کہ کسی قسم کا خون بہتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ ان میں قوتِ برداشت بہت تھی مگر جب ایک مرتبہ کسی سے ناراض ہوجاتے تو پھر ساری عمر اس کا منہ دیکھنے کے روا دار نہ ہوتے۔ انہیں کبوتر بازی کا شوق بھی تھا۔ آخری عمر میں ان کی خواہش تھی کہ گھر کی چھت پر ایک وسیع پنجرا بنوایا جائے جس میں لاتعداد کبوتر چھوڑدئیے جائیں اور ان کی چارپائی ہر وقت کبوتروں کے درمیان رہا کرے۔ انہیں یقین تھا کہ کبوتروں کے پروں کی ہوا صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔


ابا جان کے عقیدت مندوں میں ایک حجازی عفب بھی تھے جو کبھی کبھار انہیں قرآن مجید پڑھ کر سناےا کرتے۔ میں نے بھی ان سے قرآن پاک پڑھا ہے۔ ان کی آواز بڑی پیاری تھی۔ ابا جان جب بھی ان سے قرآن مجید سنتے مجھے بلابھیجتے اور اپنے پاس بٹھا لیتے۔ ایک بار انہوں نے سورة مزمل پڑھی تو ابا جان اتنا روئے کہ تکیہ آنسوﺅں سے تر ہوگیا۔ جب وہ ختم کرچکے تو آپ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولے ”تمہیں یوں قرآن پڑھنا چاہئے۔“ اسی طرح مجھے ایک مرتبہ مسدس حالی پڑھنے کو کہا اور جب یہ بند قریب بیٹھے ہوئے میاں محمد وشفیع نے دہرایا ”وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا“ تو آپ سنتے ہی آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے اماں جان کی موت پر انہوں آنسو بہاتے نہ دیکھا تھا۔ مگر قرآن مجید سنتے وقت یا اپنا کوئی شعر پڑھتے وقت یا رسول اللہ ﷺ کا اسمِ مبارک کسی کی زمبان پر آتے ہی ان کی آنکھیں بھر آیا کرتیں۔

ابا جان کو انگریزی لباس سے سخت نفرت تھی۔ مجھے ہمیشہ سلوار اور اچکن پہننے کی تلقین کیا کرتے۔ مُنیرہ اپنے بالوں کو دو حصوں میں گوندھتی تو نا پسند کرتے اور کہتے ”اپنے بال اس طرح مت گوندھا کرو۔ یہ یہودیوں کا انداز ہے۔“ اور میں کبھی غلطی سے اپنی قمیصوں یا شلواروں کا کپڑا بڑھیا قسم کا خریدلاتا تو بہت خفا ہوتے اور کہتے تم اپنے آپ کو کسی رئیس کا بیٹا سمجھتے ہو؟ تمہاری طبیعت میں اِمارت کی بُو ہے اور اگر تم نے اپنے یہ انداز نہ چھوڑے تو میں تمہیں کھدر کے کپڑے پہناﺅں گا۔“ میرے لئے بارہ آنے گز سے زائد کا قمیص کا کپڑا خریدنا یا آٹھ روپے سے زائد کا بوٹ خرید نا جرم تھا جس کی سزا کافی کڑی تھی، اگر انہیں کبھی یہ معلوم ہوجاتا کہ میں آج پلنگ پر سونے کی بجائے زمین پر سویا ہوں تو بڑے خوش ہوا کرتے۔

Continue reading in Part 2.