خشُگوار موسم میں
اَن گِنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاِروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارھویں کھلاڑی کو
ہوُٹ کرتا رہتا ہوں
بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شوُر مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
اِنتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جِس میں سانِحہ ہو جائے
پِھر وہ کھیلنے نِکلے
تالیوں کے جھُرمٹ میں
ایک جملہِ خوُشکن
ایک نعرہِ تحِسین
اُس کے نام پَر ہو جائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی معتبر ہو جائے
پَر یہ کم ہی ہوتا ہے
پِھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عُمر بھر کا رِشتہ ہے
عُمر بھر کا یہ رِشتہ
ٹوُٹ بھی تو سکتا ہے
چھوُٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وِسَل کے ساتھ
ٹوُٹ جانے والا دِل
ڈُوب بھی تو سکتا ہے
تمُ بھی افتخار عارِف
بارھویں کھلاڑی ہو
اِنتظار کرتے ہو
ایک ایسی ساعت کا
جِس میں حادثہ ہو جائے
جِس میں سانِحہ ہو جائے
تمُ بھی افتخار عارِف
تمُ بھی ڈوُب جاؤ گے
تمُ بھی ٹوُٹ جاؤ گے









3 comments
ڈفر says:
October 29, 2008 at 7:11 pm (UTC 5)
بہت عمدہ
Faiza says:
November 3, 2008 at 12:59 am (UTC 5)
Thank you
TAHZEEB says:
June 4, 2011 at 4:15 pm (UTC 5)
HI I M TEHZIB I LIKE THIS GHAZAL