Barwan Khilarhi - By Iftikhar Arif
خشُگوار موسم میں
اَن گِنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاِروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارھویں کھلاڑی کو
ہوُٹ کرتا رہتا ہوں
بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شوُر مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
اِنتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جِس میں سانِحہ ہو جائے
پِھر وہ کھیلنے نِکلے
تالیوں کے جھُرمٹ میں
ایک جملہِ خوُشکن
ایک نعرہِ تحِسین
اُس کے نام پَر ہو جائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی معتبر ہو جائے
پَر یہ کم ہی ہوتا ہے
پِھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عُمر بھر کا رِشتہ ہے
عُمر بھر کا یہ رِشتہ
ٹوُٹ بھی تو سکتا ہے
چھوُٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وِسَل کے ساتھ
ٹوُٹ جانے والا دِل
ڈُوب بھی تو سکتا ہے
تمُ بھی افتخار عارِف
بارھویں کھلاڑی ہو
اِنتظار کرتے ہو
ایک ایسی ساعت کا
جِس میں حادثہ ہو جائے
جِس میں سانِحہ ہو جائے
تمُ بھی افتخار عارِف
تمُ بھی ڈوُب جاؤ گے
تمُ بھی ٹوُٹ جاؤ گے





October 29th, 2008 at 7:11 pm
بہت عمدہ
November 3rd, 2008 at 12:59 am
Thank you