پرُانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرَز رہی ہیں
فصیلِ شہرِ وفا کے روزَن چمکتے زرّوں سے بھَر گئے ہیں
گئے دِنوں کِی عذیز باتیں.. نِگار صُبحیں.. گلاب راتیں
بِساطِ دِل بھی عجیب شَے ہے…ہزار جیِیتیں…ہزار مَاتیں
جُدائیوں کِی ھوائیں لمَحوں کِی خشُک مٹّی اُڑا رہی ہیں
گئ رُتوں کا مَلال کَب تک
چَلو! کہ شاخیں تو ٹُوٹتی ہیں
چَلو کہ قَبروں پہ خوُن رونے سے
اَپنی آنکھیں ہی پھُوٹتی ہیں
یہ موُڑ وہ ہے جہاں سے میرے تُمہارے رسَتے بَدل گئے ہیں
پُرانی راہوں کو لوٹنا بھِی ہماری تقدیر میں نہیں ہے
کہ راستے بھِی ہمارے قدموں کے ساتھ آگے نِکل گئے ہیں
طلوُعِ شمسِ مفارقت ہے
تُم اپنی آنکھوں میں جھِلملاتے ہوئے سِتاروں کو موت دے دو
گئ رُتوں کے تمام پھُولوں…تمام خاروں کو موت دے دو
نئے سفر کو حیات بخشو
کہ پچِھلی راہوں پہ ثبَت جِتنے نقوشِ پا ہیں
غبُار ہوں گے
ھوَا اُڑائے کہ تُم اُڑاوُ









2 comments
ڈفر says:
October 20, 2008 at 8:19 pm (UTC 5)
بہت اچھا انتخاب
Faiza says:
October 21, 2008 at 1:52 pm (UTC 5)
بہت شکریہ