I must admit that it felt really nice going down memory lane while reading this lovely article by Afzal. True, there is perhaps no time in our life better than our childhood, which we can’t get back…but would it be too much to wish for a stable and calm Pakistan? Or was that all an illusion of our innocent ignorance?
جب ہماری عمر تیرہ سے سولہ برس تھی تو ہماری روٹین کچھ اس طرح ہوا کرتی تھی۔ صبح صبح اٹھنا، فجر کی نماز پڑھنا اور پھر کھلی فضاؤں میں دوستوں کیساتھ صبح کی سیر کیلیے نکل پڑنا۔ نہر کے کنارے دوڑ لگانا اور لمبی لمبی سانسیں لے کر تازہ ہوا سے پھپپھڑوں کو ورزش کرانا۔
گھر آکر نہانا، والدہ کے ہاتھوں سے پکا پراٹھا مکھن کیساتھ کھانا اور ایک گلاس دودھ پی کر ڈکار مارنا۔ اس کے بعد کتابیں پکڑنا اور ایک حجام کے پھٹے کے پاس دوستوں کا انتظار کرنا۔ ہم سب نے ملکر سکول کی طرف مارچ کرنا اور پندرہ بیس منٹ کی مسافت میں کھیل اور پڑھائی پر گفتکو کرتے رہنا۔ سکول پہنچ کر کتابیں ڈیسک پر رکھنا اور دوستوں کیساتھ چھپن چھپائی یا ایسا ہی کوئی اور کھیل کھلنا شروع کر دینا۔ کبھی کبھار سکول میں لگے باغ کے کنارے کنارے چل کر چوری چھپے ایک دو آم یا امرود توڑ کر مزے سے کھانا۔
پھر سکول کی گھنٹی بجتے ہی حاضری لگوانے کے بعد استاد کی سرپرستی میں قطار میں گراؤنڈ میں پہنچنا، تلاوت سننے کے بعد، ملکر دعا پڑھنا اور اسلامیات کے استاد کی دعا پر آمین کہنا۔ ہیڈماسٹر کی دو چار ضروری باتیں سننے کے بعد ساری جماعتوں کا بینڈ کی دھن پر مارچ کرتے ہوئے گراؤنڈ کا چکر لگا کر کلاسوں میں چلے جانا۔
پہلے چار پیریڈز میں پڑھائی کرنا، مار کھانا اور استادوں سے مزے مزے کی باتیں سننا۔ کبھی کبھی جب بور ہو جانا یا ہوم ورک نہ کیا ہونا تو پھر پیٹ درد کا بہانہ کر کے سکول کی ڈسپنسری سے دوا لینے چلے جانا۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے میٹھی گولیاں لیکر ایک ہی دفعہ ہڑپ کرنے کے بعد واپس آنا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ پی ٹی ماسٹر نے ادھر آ دھمکنا، کچھ مریضوں نے تو انہیں دیکھ کر ہی دوڑ لگا دینی اور کچھ کو پی ٹی صاحب نے ڈنڈے مار کر بھگا دینا۔ اس وقت مریضوں کی جو دوڑ لگتی تھی اسے دیکھ کر اتنا ہنسنا کہ ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جایا کرتے تھے۔
سکول سے چھٹی کے بعد گھر آتے ہی روٹی پر ٹوٹ پڑنا۔ کھانے کے بعد والدین کے اصرار پر تھوڑا آرام کرنا اور کبھی کبھی والدین سے آنکھ بچا کر باہر بھی نکل جانا۔ سہ پہر کو عصر کی نماز کے بعد ہاکی کی پریکٹس کرنا اور مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد کچھ دیر مسجد کے باہر کھڑے رہ کر حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا۔ کبھی کبھی ادھر ہی عشاء کا وقت بھی ہو جایا کرتا تھا اور عشاء پڑھ کر گھر آیا کرنا۔ جس دن روحی بانو یا طاہرہ نقوی کا ڈرامہ لگنے کا دن ہوتا تھا اس دن ہم مسجد جانا بھی بھول جایا کرتے تھے۔
رات نو بجے کی خبریں سن کر سونا اور جس دن پاکستانی فلم کا دن ہونا اس دن ساری فلم دیکھ کر سویا کرنا۔ گرمیوں میں صحن میں سونے کا بھی اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔ اس دن کچھ زیادہ ہی مزہ آیا کرنا جب رات کو بارش شروع ہو جانی اور ہم نے چارپائی سے نہ اٹھنے کی قسم کھا لیا کرنی کیونکہ والدین جب ہماری چارپائی اٹھا کر برآمدے میں لے جایا کرتے تھے تو اس کا جو مزہ آتا تھا وہ بعد میں لمبی ڈرائیو کا بھی نہیں آیا۔
اب جب ہم پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی روٹین کیساتھ کام کر کر کے اکتا جاتے ہیں تو ہمیں وہ دن بہت یاد آتے ہیں اور معلوم ہونے کے باوجود کہ وہ دن لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر بھی ان دنوں کے لوٹ آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ کیونکہ تب نہ بم دھماکے ہوتے تھے، نہ راہ چلتے کوئی لوٹ لیا کرتا تھا، نہ گاڑیوں کی بھرمار تھی، نہ سکول بنجر تھے اور نہ سیل فون اور کمپیوٹر تھے۔ ہر کسی کے پاس وقت ہی وقت تھا اور اتنا وقت تھا کہ یار دوست بہت سارا وقت اکٹھے گزارا کرتے تھے۔









4 comments
ڈفر says:
October 17, 2008 at 8:08 pm (UTC 5)
ignorance is innocence ever?
sorry but i want to suggest something to you about your blog if you dont mind
Saeed says:
October 17, 2008 at 8:11 pm (UTC 5)
I’m all ears…
tashfeen says:
October 18, 2008 at 7:21 pm (UTC 5)
The topic is tooooooooo good.. Likin parh kar lagta ha jese ap nhi koi dada abu/ dadi amman kahani suna rahay houn… Ab tu wo din itnay khuwaab lagtay haien… Saath hi saath a[pna bachpan bhi yaad agia ha… Jeb kabhi kabhi sardiyoun mien teacher hath kharay karwati saari class k lia pooray period tek.. tu jeb coat/sweater utartay aor hath neechay kartay teb itni cheekhain nikalti thien k dil kerta tha phir ooper ker le banda.
سارہ پاکستان says:
January 14, 2009 at 9:35 pm (UTC 5)
میرا خٰیال ہے زندگی کے ہر فیز کا اپنا حسن ہوتا ہے۔۔۔ہاں مگر بے فکری کے دن زیادہ یاد آتے ہیں۔۔۔