PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Entries for November, 2008

Aik Mohray Ka Safar - by Javed Akhtar

جب وہ کم عمر ہی تھا
اُس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جینا ہے
بڑی چالاکی سے جینا ہو گا
آنکھ کی آخری حد تک ہے بسِا طِ ہستی
اور وہ ایک معمولی سا مہرہ ہے
اکِ اِک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہو گا
بازی آسان نہیں تھی اُسکی
دوُر تک چاروں طرف پھیلے تھے مہُرے
جلاّد، نہایت سفاّک ، [...]

Comments (3)

Do You Judge Others Incorrectly ?

A Window
A young couple moves into a new neighborhood. The next morning, while they are eating breakfast, the young wife sees her neighbor hang the wash outside.
“That laundry is not very clean,” she said to her husband. “The neighbor doesn’t know how to wash correctly. Perhaps she needs better laundry soap.”
Her husband looked on, but [...]

Comments (4)

Iqbal - Aik Baap Ki Haisiyat Se (Part 2)

Continued from Part 1…

مجھے کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ باغ و بہار (قصہ چہار درویش) حاتم طائی، طلسم ہو شربا اور عبد الحلیم شرر کے سب ناول پڑھ ڈالے تھے۔ ساتویں جماعت کے امتحان کے قریب میرے ہاتھ الف لیلہ لگ گئی اور یہ کتاب مجھے اتنی اچھی لگی کہ رات گئے [...]

Comments (5)

Iqbal - Aik Baap Ki Haisiyat Se (Part 1)

اقبال، ایک باپ کی حیثیت سے
جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

میں نے سنا ہے کہ میری پیدائش سے چند سال قبل ابا جان حضرت شیخ احمد سرہندی مجددِ الف ثانی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ آپ نے حضرت مجدد سے یہ عہد بھی کیا کہ اگر [...]

Comments (2)

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدُا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھکو
سکوتِ لالہ و گلُ سے کلام پیدا کر
اٹُھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے اِحساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
میرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کر
مرِا [...]

Leave a Comment

Words do make a difference

A blind boy sat on the steps of a building with a hat by his feet. He held up a sign which said: ‘I am blind, please help.’ There were only a few coins in the hat.
A man happened to walk by. He took a few coins from his pocket and dropped them into the [...]

Comments (1)

Kis Qadar Khuwab Thay - by Amjad Islam Amjad

اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے
کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے
کِس قدر نَقش تھے جو نقشِ سرِ آب رہے
کِس قدر لوگ تھے جو
دِل کیِ دہلیز پہ دسَتک کِی طرَح رہتے تھے
اور نایاب رہے..
کِس قدر رَنگ تھے جو
بند کلیوں کے خم و پیچ میں چکَرَاتے رہے
اپنے ہونے کی تب و تاب میں لہِراتے [...]

Comments (1)