PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Download Novel Abdullah By Hashim Nadeem

ناول عبدللہ
مصنف ہاشم ندیم

حالیہ سروے کے مطابق عبداللہ دورِ حاضر کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ عبداللہ سے پہلے ہاشم ندیم کے دو ناول ،بچپن کا دسمبر اور ،خدا اور محبت بیناالااقوامی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔مصنّف کا تعلق بلوچستان سے ہے اور بنیادی طور پر سول سروس کے شعبے سے منسلک ہیں۔

عبدللہ ، دراصل عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کے انوکھے سفر کی ایک لازوال داستان ہے – جسکا پورا خاکہ ہماری دنیا کے بلکل متوازی چلتی ایک دوسری دنیا کے اسرار و رموز کے گرد گھومتا ہے


Dil e Bekhabar Zara Hausla

کوئی ایسا گھر بھی ہے شہر میں جہاں ہر مکین ہو مطمئن!
کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ہے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں!
یہ جو گرد بادِ زمان ہے ، یہ ازل سے ہے ، کوئی اب نہیں
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ !
یہ جو خار ہیں تیرے پاؤں میں ، یہ جو زخم ہیں تیرے ہاتھ میں
یہ جو خواب پھرتے ہیں در بدر یہ جو بات الجھی ہے بات میں
یہ جو لوگ بیٹھے ہیں جا بجا ، کسی ان بنے سے دیار میں
سبھی ایک جیسے ہیں سرگراں ، غمِ زندگی کے فشار میں
یہ سراب یوں ہی صدا سے ہیں ، اسی ریگزارِ حیات میں
یہ جو رات ہے تیرے چار سو، نہیں صرف تیری ہی گھات میں
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ !
تیرے سامنے وہ کتاب ہے جو بکھر گئی ہو ورق ورق
ہمیں اپنے حصے کے وقت میں ، اسے جوڑنا ہے سبق سبق
ہیں عبارتیں ذرا مختلف مگر ایک اصلِ سوال ہے
جو سمجھ سکو تو یہ زندگی کسی ہفت خواں کی مثال ہے
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ ! نہیں مستقل کوئی مرحلہ
کیا عجب کے کل کو یقین بنے یہ جو مضطرب سا خیال ہے
کسی روشنی میں ہو منقلب ، کسی سر خوشی کا نقیب ہو
یہ جو شب نما سی ہے بے دلی ، یہ جو زرد رو سا ملال ہے
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ !
دلِ بے خبر ذرا حوصلہ !

امجد اسلام امجد

Monday Motivation: Your Life in a Cup!

A group of working adults got together to visit their University lecturer. The lecturer was happy to see them. Conversation soon turned into complaints about stress in work and life.

The Lecturer just smiled and went to the kitchen to get an assortment of cups – some porcelain, some in plastic, some in glass, some plain looking and some looked rather expensive and exquisite.

The Lecturer offered his former students the cups to get drinks for themselves.

When all the students had a cup in hand with water, the Lecturer spoke: “If you noticed, all the nice looking, expensive cups were taken up, leaving behind the plain and cheap ones. While it is normal that you only want the best for yourselves, that is the source of your problems and stress. What all you wanted was water, not the cup, but we unconsciously went for the better cups.”

“Just like in life, if Life is Water, then the jobs, money and position in society are the cups. They are just tools to hold/maintain Life, but the quality of Life doesn’t change.”

“If we only concentrate on the cup, we won’t have time to enjoy, taste and appreciate the water in it.”

According to Noble Qur’an, the sources of our problems are four:

We strain our eyes in longing for the things which other people have, and forget our own bounties given by Allah and forget to enjoy them. Noble Qur’an says:

(Surah Taha, 131): Nor strain your eyes in longing for the things We have given for enjoyment to parties of them, the splendor of the life of this world, through which We test them: but the provision of your Lord is better and more enduring.

We complain so much about trivial pains and problems we face in this world, while forget the actual suffering we may face in the Hereafter due to our wrongdoings and negligence. We also forget to realize that actual pleasure is in fulfilling our duty to ease the sufferings of people around us.

(Surah Taha, 127): And thus do We recompense him who transgresses beyond bounds and believes not in the Signs of his Lord: and the Penalty of the Hereafter is far more grievous and more enduring.

We are so much after the conveniences and luxuries of this world that we forget the core purpose of our life; which is a test with full of sufferings in order to obtain reward of Paradise.

(Surah Al-Qasas, 60): The (material) things which you are given are but the conveniences of this life and the glitter thereof; but that which is with Allah is better and more enduring: will you not then be wise?

We take the life in the world as permanent and spend all our sources just building it as if death is for ’somebody else and not me’, while we forget the fact that eternal life is that of Hereafter.

(Surah Al-’Alá, 16-17): But you prefer the worldly life. While the Hereafter is better and more enduring.

Let us stop complaining and enjoy and appreciate our life which is an investment for a blissful eternal life in the Hereafter!

Download Zara Phir Se Kehna By Amjad Islam Amjad

کتاب : ذرا پھر سے کہنا
شاعر : امجد اسلام امجد

امجد اسلام امجد نے آبائي شہر سيالکوٹ لاہور ميں تعليم حاصل کي اور ايم اے او کالج لاہور سے ايک ليکچرار کي حيثيت سے عملي زندگي کا آغاز کيا، 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹيلي ويثرن پر ڈائريکٹر کي حيثيت سے کام کرتے رہے، اس کے بعد دوبارہ اسي کالج ميں آگئے، 1997 ميں ڈائريکڑ جنرل اردو سائنس بورڈ مقرر ہوئے، چلڈرن لائبريري کمپليکس کے پروجيکٹ ڈائريکٹررہے، چاليں کتابوں کے مصنف ہيں، بيشمار سفرنامہ، تنقيد، تراجم اور مضامين لکھے، نيشنيل ايوارڈ يافتہ ہيں، گو ان کي شہرت انکے ڈراموں کي بدولت ہے، ليکن ان کي حقيقي پہچان انکي وہ نظميں ہيں جن ميں زندگي کے تمام تر پہلو اپني تمام تر دلکشي اور مٹھاس لئے ہوئے ہيں۔



وطن کے لئے نظم

وطن کے لئے نظم لکھنے سے پہلے
قلم، حرف کي بارگاہ ميں
بہت شرمسار و زبوں ہے
قلم سر نگوں ہے
قلم کيسے لکھے

وطن! تو مري ماں کا آنچل جو ہوتا
تو ميں تجھ کو شعلوں ميں گِھرتے ہوئے ديکھ کر۔۔ کانپ اٹھتي
زباں پر مري۔۔۔ الاماں۔۔۔ اور آنکھوں ميں اشکوں کا طوفان ہوتا

وطن! تو مرا شير دل بھائي ہوتا۔۔۔ تو
تيرے لہو کے فقط ايک قطرے کے بدلے
ميں اپنے بدن کا يہ سارا لہو نذر کرتي
شب و روز۔۔ تيري جواني
تري زندگي کي دعاؤں ميں مصروف رہتي

وطن! تو مرا خواب جيسا وہ محبوب ہوتا
کہ جس کي فقط ديد ہي۔۔ ميرے جيون کي برنائي ہے
ميں ترے ہجر ميں۔۔ رات بھر جاگتي۔۔ عمر بھر جاگتي
عمر بھر گيت لکھتي

وطن! تو جو معصوم لختِ جگر ميرا ہوتا
تو۔۔ تيري اداؤں سے ميں ٹوٹ کر پيار کرتي
بلائيں تري۔۔ ساري اپنے ليے مانگ لاتي
ترے پاؤں کو لگنے والي سبھي ٹھوکروں ميں
ميں اپنا محبت بھرا دل بچھاتي

وطن! تواگر ميرے بابا سے ميراث ميں ملنے والي
زميں کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا بھي ہوتا
کہ جس کے ليے ميرا بھائي
مرے بھائي کے خوں کا پياسا ہوا ہے
تو ميں اپني جاں کا کوئي حصہ اور جرعہء خوں تجھے پيش کرتي،

ميں اپنے بدن پر کوئي وار۔۔ دل پر کوئي زخم سہتي
تو پھر شعر کہتي

قلم کيسے لکھے
يہ آدھي صدي سے زيادہ پہ پھيلے بہانے
يہ خود غرضيوں کے فسانے؟

قلم۔۔۔ مہرباں شاعروں کا
قلم۔۔۔ غمگسار عاشقوں کا
قلم۔۔۔ آسماني صحيفوں کو مرقوم کرنے کا داعي
قلم۔۔۔ نوعِ انساں کي تاريخ*کا عيني شاہد
قلم۔۔۔ يہ مري عمر بھر کي کمائي

ازل سے ابد تک۔۔ جو راز آشنا ہے
بہت سرخرو اور شعلہ نوا ہے
قلم لکھ رہا ہے

کہ ميرے وطن
تو ہي پُرکھوں سے ميراث ميں ملنے والي زميں ہے
تو ہي سر پہ پھيلا ہوا آسماں ہے
تو ہي ماں کي گود اور آنچل
تو ميرا محافظ، مرا شير دل بھائي
تو ميرا محبوب، وہ خواب زادہ
تو ہي ميرا معصوم لختِ جگر ہے
تو ہي ميري پہچان اور شان ہے
دل کي ٹھنڈک ہے
نورِ نظر ہے


ثمینہ راجہ

Friday Funnies: Public Transport

ڈرایئور

یہ کسی بھی گاڑی کا وہ ڈھیٹ مسافر ہوتا ہے جو صبح سے شام تک نہایت ڈھٹایی سے ایک ہی سیٹ پر قبضہ جماے بیٹھا رہتا ہے- اسکے فرائض میں نہ صرف لوگوں کی نازک کمروں کو جھٹکے لگوانا شامل ہوتا ہے بلکہ وقفے وقفے سے سامنے لگے چوتھے شیشے سے پیچھے بیٹھے مرد و زن پر نگاہ ڈال کر اطمینان قلب حاصل کرنا بھی اسکا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے – لوکل بسوں میں اکثر اوقات پان ، تمباکو ، یا نسوار کی لذت سے لطف اندوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے – جب کے لمبے سفر کی بسوں میں نیند میں ڈوبا ہوا پایا جاتا ہے – ڈرائیور ہونے کے ناطے اسے سب سے برا فائدہ یہ ہے کے کسی ڈگری یا اعلا تعلیم کے بغیر بھی اسے کنڈکٹر کلینر کی صورت میں کوئی نہ کوئی ماتحت نصیب ہوجاتا ہے – گاڑی میں سوار ہو جانے کے بعد مسافروں کی جان و مال کے تمام تر جملہ حقوق الله تعالیٰ کے بعد بحق ڈرائیور محفوظ ہو جاتے ہیں- آج کے مہنگے اور مصروف ترین دور میں بھی یہ اس قدر خوش نصیب شخص واقیع ہوا ہے کے کسی دوسرے مسافر کو سیٹ ملے نہ ملے — بس میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہو –کھوے سے کھوا چلتا ہو لیکن اسکو ہر صورت میں سیٹ مل جاتی ہے- اسکی تمام تر جملہ خوبیوں میں سے ایک قابل ذکر خوبی یہ بھی ہےکے موصوف کسی بھی گاڑی کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے چل سکتے ہیں لیکن کوئی بھی گاڑی موصوف کے بغیر با ہوش و حواس طریقے سے نہیں چل سکتی – کسی بھی وقت اسکے دل کے نازک تاروں کو چھیڑ دیا جائے تو اسکی دھڑکنوں سے پنجابی دوہڑھوں ، ماہیوں ،نور جہاں اور عطا الله عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کی ترنم سنایی دینے لگتی ہے – اگر کچھ اور دیر انکے ساتھ بیٹھ کر غم غلط کیا جائے تو نہایت دل سوز بلکہ دل چیر انداز میں نصیبو کے گیت سنانے شرو کر دیتے ہیں – اپنی گاڑی کو ہمہ قسم کے شعروں،اور پھول گجروں سے سجا سنوار کر حسین دوشیزہ کا روپ دینے میں بھی انکی حُسن پرست طبیعت کا عمل دخل ہوتا ہے – غیر ملکی گیتوں سمیت پاک وطن کے متعدد گلوکاروں کو شہرت دلانے میں ان ہنر مند ڈرائیوروں کا سب سے زیادہ کمال ہوتا ہے -

کنڈیکٹر

یہ بات ہے تو بہت افسوس ناک لیکن بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کے کنڈکٹری دور حاضر کا بڑا  ہی بدنصیب پیشہ ہے کیوں کے اس مزدوری میں بندہ صبح سے لے کر شام تک روپے پیسوں میں کھیلتا رہتا ہے اور رات پڑتے ہی ایندھن کی مھنگایی کے بہانے عوام سے اینٹھی گیی تمام رقم کنڈکٹر سے گاڑی کا مالک ہتھیا لیتا ہے- اور کنڈکٹر بیچارہ بے بس و لاچار بن کر اپنا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے – اس بات کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کے کنڈکٹر بھلے ڈرائیور کے ماتحت ہوتا ہے لیکن ایک ادنیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوے بھی اس کے پاس اس قدر اعلیٰ اختیارات ہوتے ہیں کے یہ حضرت جب تک گاڑی کے رہے سہے ڈھانچے پر ہاتھ پاؤں مار کر اپنی رضامندی نہ ظاہر کریں، گاڑی کسی قیمت پر رکتی یا چلتی نہیں – اس خود غرض دور میں بھی الله نے کنڈکٹر کو ایک ہمدرد دل عطا کیا ہے کے یہ خدمات خلق کا پرچم بلند کئے انسانیت کے دُکھ درد کا مداوا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے یعنی کے زیادہ سے زیادہ مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے کی دھن میں خود آئے روز کھڑکی ، پائیدان ، چھت یا دروازے کے ساتھ لٹکتا ہوا پایا جاتا ہے -

زنانہ سواری

تمام اقسام کے مسافروں میں سب سے زیادہ معروف و مقبول سواری ، زنانہ سواری ، ہوتی ہے – سواری اگر خاتون ہو ، کسی گاؤں کی ہو، پند و نصائح میں ملکہ رکھتی ہو مزاج بھی آتشی پایا ہو تو گاڑی کی رفتار اور گاڑی کے ماحول کو معمول پر رکھنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ضرور ادا کرتی ہے – ان سواریوں کو پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے اگر کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو کسی نہ کسی ہمدرد کو اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے بشرطیکہ یہ ہمدرد دل ہی دل میں اپنی ہمدردی کے نتیجے میں کسی جواب کا خواہش مند نہ ہو -

تحریر :: وقار مسعود خان

Monday Motivation: The Droplet

It was there, clinging on to the edge of the leaf and was about to fall, fall into the little puddle of water below… The Droplet.

Yes, the droplet was ready to give up and surrender its existence to the little puddle below but something made it cling on, a little longer; perhaps a desire to stay that fraction of a second more in the company of the green leaf, the same green leaf that held it, nurtured it and was now ready to offer it to the little society of droplets underneath.

What was it? Just a droplet! Where did I come from? No one knows. Perhaps a fog, a dew, an overnight drizzle perhaps from nowhere but it was now here. It existed and existed with a distinct identity, an identity that was now to be submerged into the flow of millions – to be lost.

Reluctantly, the droplet left the shelter of the leaf. All the time it went down, it pointed towards its once safe, soft and sure shelter. And then with a little ‘whimp’ it dropped into the puddle.

Don’t know what strength the droplet had in its heart or what amount of agony or what purpose it set itself to make it so heavy.

As it fell, it created a huge ripple all around it. Yes, it was the sign of revolution. It said that it was here to make changes, to transform the society of droplets into the way it learnt intuitively from the soul of the world, to live with a distinct identity.

But, something else happened. The ripple it sent around gradually died out and with time, silently the pool of droplets engulfed it. And its existence was lost.

But yes, the water in the puddle never remained the same again because the droplet fell, the ripple was created, the mud was churned, and the color of the society of droplets changed forever.

We may be a droplet in the ocean of people but it requires only one, to churn what lies within us, to change the course of destiny.

- By Arindam Dey